کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اس وقت دنیا کی آبادی آٹھ ارب نفوس پر مشتمل ہے اور مزید بڑھنے کا خدشہ ہے ، جب آبادی زیادہ ہوگی تو وسائل کم اور مسائل زیادہ ہوں گے اس خدشہ کے پیش نظر خاندانی منصوبہ بندی کروانا شرعا جائز ہے یا نہیں ؟
واضح رہے کہ خاندانی منصوبہ بندی کے تحت اس وقت جتنے پروجیکٹ میدان میں ہیں وہ سب غیر شرعی ہیں ، کیونکہ کسی فرد کے عذر کی وجہ سے ضبط تولید کا عمل جائز تو ہوسکتا ہے لیکن عام مفلسی کے خطرہ کے پیش نظر ضبط تولید کا مشن چلانا ، جائز نہیں۔مفلسی کے خوف سے عزل کرنا جائز نہیں ، تو خاندانی منصوبہ بندی کیسے جائز ہوسکتی ہے ۔
القرأن الكريم :[الإسراء:/17 31]
وَلَا تَقۡتُلُوٓاْ أَوۡلَٰدَكُمۡ خَشۡيَةَ إِمۡلَٰقٖۖ نَّحۡنُ نَرۡزُقُهُمۡ وَإِيَّاكُمۡۚ إِنَّ قَتۡلَهُمۡ كَانَ خِطۡـٔٗا كَبِيرٗا.
الشامية : (6/ 429، ط: دارالفكر)
(قوله ويكره إلخ) أي مطلقا قبل التصور وبعده على ما اختاره في الخانية كما قدمناه قبيل الاستبراء وقال إلا أنها لا تأثم إثم القتل (قوله وجاز لعذر) كالمرضعة إذا ظهر بها الحبل وانقطع لبنها وليس لأبي الصبي ما يستأجر به الظئر ويخاف هلاك الولد قالوا يباح لها أن تعالج في استنزال الدم ما دام الحمل مضغة أو علقة ولم يخلق له عضو وقدروا تلك المدة بمائة وعشرين يوما.