کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص کسی کواپنے سالگرہ کی دعوت پر اپنے گھر بلائے ، تو اس کے گھر جانا چاہیے یا نہیں ؟ کیا سالگرہ کی دعوت کھانا حرام ہے ؟
واضح رہے کہ سالگرہ اپنی یوم پیدائش میں خوشی کرنے کا نام ہے ، اگر کوئی صرف خوشی مناتا ہے اور کوئی خلاف شرع کام نہیں کرتا تو سالگرہ منانے میں کوئی حرج نہیں ، البتہ آج کل کے سالگرہ کی تقاریب میں غیر مسلمانوں کی نقالی ہوتی ہے ، مردوعورت کا مخلوط اجتماع ہوتا ہے ، تحائف بدلے کی نیت سے دیے جاتے ہیں،اس لیے اس سے اجتناب بہتر ہے ۔
نیز سالگرہ کی دعوت میں اگر کوئی حرام چیز مثلا شرب وغیرہ نہ ہو ، اور کھاناحلال مال سے بنوایا گیا ہو تو وہاں کھانا جائز ہے ۔
القرأن الكريم : [آل عمران:/3 85]
وَمَن يَبۡتَغِ غَيۡرَ ٱلۡإِسۡلَٰمِ دِينٗا فَلَن يُقۡبَلَ مِنۡهُ.
سنن أبي داود:(6/ 144، رقم الحديث : 4031،ط: دار الرسالة العالمية )
عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:، من تشبه بقوم فهو منهم".
سنن ابن ماجه:(4/ 454 ،رقم الحديث : 3359، ط: دار الرسالة العالمية )
عن علي، قال: صنعت طعاما، فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فرأى في البيت تصاوير، فرجع.
الشامية :(6/ 348، ط: دارالفكر)
(قوله وإن علم أولا) أفاد أن ما مر فيما إذا لم يعلم قبل حضوره (قوله لا يحضر أصلا) إلا إذا علم أنهم يتركون ذلك احتراما له فعليه أن يذهب إتقاني (قوله ابن كمال) لم أره فيه نعم ذكره في الهداية قال ط وفيه نظر والأوضح ما في التبيين حيث قال: لأنه لا يلزمه إجابة الدعوة إذا كان هناك منكر اهـ. قلت: لكنه لا يفيد وجه الفرق بين ما قبل الحضور وما بعده، وساق بعد هذا في التبيين ما رواه ابن ماجه أن عليا رضي الله عنه قال: صنعت طعاما فدعوت رسول الله صلى الله عليه وسلم فجاء فرأى في البيت تصاوير فرجع اهـ. قلت: مفاد الحديث أنه يرجع ولو بعد الحضور وأنه لا تلزم الإجابة مع المنكر أصلا تأمل.