کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ آج کل اسراف اور فضول خرافات ورسومات سے بچنا بہت مشکل ہے ، شادیوں میں مرد ، عورت کامخلوط ماحول اور بے جا فضول خرچی سے کیسے بچا جائے اگر ایک بندہ ان چیزوں سے بچنے کی کوشش بھی کرتا ہے تو رشتہ داروں اور دوستوں کی طرف سے طعنہ زنی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے ، اس کے ساتھ آپ یہ بھی وضاحت فرمادیں کہ کیا شادی میں بارات ضروری ہے ؟
واضح رہے کہ آج کل شادی اور دیگر تقریبات میں مرد وعورتوں کے مخلوط اجتماعات ، بے جا فضول خرچیاں اور اور مروجہ رسم ورواج اسلامی احکامات کے منافی اور ناجائز ہیں ان سے بچنا ضروری ہے ،
سنت طریقہ سے شادی کا پروگرام کرنا چاہیے ،رشتہ داروں کی طعن وتشنیع کی کوئی پروانہ نہیں کرنا چاہیے ،نیز بارات کی رسم کا اسلام میں کوئی ثبوت نہیں ہے یہ بعد کی ایجاد ہے اس کوچھوڑنا ہی لازم اور بہتر ہے ۔
الدرالمختار : (6/ 349، ط: دارالفكر)
وفي البزازية استماع صوت الملاهي كضرب قصب ونحوه حرام لقوله عليه الصلاة والسلام «استماع الملاهي معصية والجلوس عليها فسق والتلذذ بها كفر» أي بالنعمة فصرف الجوارح إلى غير ما خلق لأجله كفر بالنعمة لا شكر فالواجب كل الواجب أن يجتنب كي لا يسمع لما روي «أنه عليه الصلاة والسلام أدخل أصبعه في أذنه عند سماعه» وأشعار العرب لو فيها ذكر الفسق .
الهندية: (5/ 343، ط: دارالفكر)
من دعي إلى وليمة فوجد ثمة لعبا أو غناء فلا بأس أن يقعد ويأكل، فإن قدر على المنع يمنعهم، وإن لم يقدر يصبر وهذا إذا لم يكن مقتدى به أما إذا كان، ولم يقدر على منعهم، فإنه يخرج، ولا يقعد، ولو كان ذلك على المائدة لا ينبغي أن يقعد، وإن لم يكن مقتدى به وهذا كله بعد الحضور، وأما إذا علم قبل الحضور فلا يحضر؛ لأنه لا يلزمه حق الدعوة بخلاف ما إذا هجم عليه؛ لأنه قد لزمه، كذا في السراج الوهاج.
الموسوعة الفقهية : (35/ 338، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
وقال القرطبي: أما المزامير والأوتار والكوبة فلا يختلف في تحريم استماعها ولم أسمع عن أحد ممن يعتبر قوله من السلف وأئمة الخلف من يبيح ذلك، وكيف لا يحرم وهو شعار أهل الخمور والفسوق ومهيج الشهوات والفساد والمجون، وما كان كذلك لم يشك في تحريمه ولا في تفسيق فاعله وتأثيمه .