کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص کےچار بیٹے تھے ان میں بڑے بیٹے کو الگ گھر بنو اکر دیا اور ا س کوالگ کردیا ، اس کے بعد دو چھوٹے بیٹوں نے والد کوراضی کیا اور سب سے قیمتی زمین اپنے نام کرکے اپنے نام وصیت لکھوا دی اس کے بعد اس شخص کا انتقال ہوگیا اور اب باقی ماندہ مال بطور میراث تقسیم ہوا ۔
پوچھنا یہ ہے کہ والد کا اس طرح اپنے بیٹوں کے لیے وصیت کرنے کا کیا حکم ہے ؟
واضح رہے کہ وارث کے حق میں کی گئی وصیت باطل ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں بڑے بیٹے کوجو گھر الگ کرکے دیا گیا ہے اس کے علاوہ باقی کل مال کو تین بیٹوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا ۔
سنن الترمذي: (3/ 620، رقم الحديث : 2120، ط: دار الغرب الإسلامي )
عن أبي أمامة الباهلي قال سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول في خطبته عام حجة الوداع»: إن الله تبارك وتعالى قد أعطى لكل ذي حق حقه فلا وصية لوارث .
الهندية: (6/ 90، ط: دارالفكر)
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.
فتح القدير : (9/ 20، ط:دارا لفكر)
لا يملكه الموهوب له إلا بالقبول والقبض.