کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ زید کی ماں نے دو گواہوں کی موجودگی میں کہا کہ اگر میں مر جاؤں تو میرے زیورات زید کے ہوں گے زید کے ماں کا انتقال کے بعد یہ زیورات زید کے ہوں گے یا تمام ورثامیں تقسیم ہوں گے ۔
واضح رہے کہ وارث کے لیےو صیت نافذ نہیں ہوتی ، لہذا پوچھی گئی صورت میں والدہ کے زیورات تمام ورثا میں تقسیم ہوں گے ، البتہ اگر تمام ورثاخوشی سے زید کو دینا چاہے تو یہ وصیت نافذ ہوسکتی ہے ۔
الهندية: (6/ 90، ط: دارالفكر)
ولا تجوز الوصية للوارث عندنا إلا أن يجيزها الورثة، ولو أوصى لوارثه ولأجنبي صح في حصة الأجنبي ويتوقف في حصة الوارث على إجازة الورثة إن أجازوا جاز وإن لم يجيزوا بطل ولا تعتبر إجازتهم في حياة الموصي حتى كان لهم الرجوع بعد ذلك، كذا في فتاوى قاضي خان.
الموسوعة الفقهية: (43/ 246، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية )
ذهب الفقهاء إلى أنه يشترط ألا يكون الموصى له وارثا للموصي عند موت الموصي، إذا كان هناك وارث آخر لقوله صلى الله عليه وسلم: إن الله قد أعطى كل ذي حق حقه، فلا وصية لوارث ".وقوله صلى الله عليه وسلم أيضا: لا تجوز وصية لوارث إلا أن يشاء الورثة .