كيا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارےمیں کہ ہمارے ہاں بچوں کا ختنہ کروانے کےبعد بڑے کھانے کے دعوت کا اہتمام کیا جاتا ہے ، جس میں شریک ہونے والے افراد بچے کے لیے سونے کے انگوٹھی ، چین وغیرہ بطور ہدیہ دیتے ہیں کیا شریعت میں اس کی اجازت ہے ؟
واضح رہے کہ ختنہ کروانا سنت انبیاء علیہم الصلوات والتسلیمات ہے ، البتہ ختنہ کروانے کے بعد دعوت کا اہتمام کرنا آپ ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے ثابت نہیں ہے ، تاہم اگر کوئی شخص سنت ادا کرنے کے بعد شکرانہ کے طور پر دعوت کرتا ہے تو اس کی گنجائش ہے ۔
نیز کسی کو ہدیہ دینااور کسی کا ہدیہ قبول کرنا بھی سنت ہے ، البتہ اگر اسے لازم سمجھا جائے ، یا اس نیت سے ہدیہ دیا جائے کہ کل کو ہمارے ہاں آئیں گے تو ہدیہ دیں گے تو یہ صورت ناجائز ہے ۔
مسند أحمد: (29/ 436 ، رقم الحديث : 17908، ط: مؤسسة الرسالة )
عن الحسن قال: دعي عثمان بن أبي العاص إلى ختان، فأبى أن يجيب، فقيل له، فقال: إنا كنا لا نأتي الختان على عهد رسول الله صلى الله عليه وسلم ولا ندعى له.
الموسوعة الفقهية : (42/ 257، ط: وزارة الاوقاف والشئون الاسلامية )
قال الحنفية: إن كانت الهدية مما يصلح للصبيان مثل ثياب الصبيان، أو شيئا يستعمله الصبيان فهي للصبي؛ لأن مثله يكون هدية للصبي عادة، وإن كانت الهدية دراهم أو دنانير أو غير ذلك يرجع إلى المهدي، فإن قال: هي للصغير كانت للصغير، وإن تعذر الرجوع إليه: ينظر إن كان المهدي من أقارب الأب أو معارفه فهي للأب، وإن كان من أقارب الأم أو معارفها فهي للأم.