جہیز

عورت کے جہیز کا سامان اس کی ملکیت ہے

فتوی نمبر :
1376
معاملات / احکام نکاح / جہیز

عورت کے جہیز کا سامان اس کی ملکیت ہے

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرا م اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک لڑکی کو اس کے والدین نے شادی کے وقت جہیز کےسامان میں ” اے سی “ بھی دیا ، جسے شادی کے بعد اس لڑکی نے استعمال بھی کیا لیکن ایک عرصہ کےبعد اس کی ”اے سی “ کو اس کے سسرال والے استعمال کرنے لگے اور لڑکی نے مجبورا لڑائی جھگڑا سے بچنے کے لیے اس کی اجازت بھی دی ،اب وہ لڑکی اور اس کا بیٹا سخت گرمی میں پنکھے کے نیچے سوتے ہیں ، اور وہ شوہر سے اے سی کا مطالبہ کرنے سے بھی قاصر ہے ۔
اب پوچھنا یہ ہے کہ اس اے سی کے استعمال کا اصل حقدار کون ہے ؟ جب کہ لڑکی نے مجبوری کے تحت اس کی اجازت دی ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ شادی کے وقت لڑکی کو جہیز کے طور پر جو کچھ دیا جاتا ہے وہ لڑکی کی ملکیت ہوجاتی ہے ، لہذا اس کے اجازت کے بغیر اس کے کسی چیز کواستعما ل کرناجائز نہیں ، لہذا پوچھی گئی صورت میں جب لڑکی نے اجازت دی ہے تو گھر کے تمام افراد کو اے سی استعمال کرنے کی اجازت ہے، تاہم اگر مذکورہ لڑکی اےسی واپس لینا چاہے اور صرف اپنے استعمال میں رکھے تو بھی اسے اجازت ہے ۔

حوالہ جات

مسند أحمد: (34/ 299 ، رقم الحديث : 20695، ط:موسسة الرسالة )
عن أبي حرة الرقاشي، عن عمه، قال: كنت آخذا بزمام ناقة رسول الله صلى الله عليه وسلم في أوسط أيام التشريق... ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، ألا لا تظلموا، إنه ‌لا ‌يحل ‌مال امرئ إلا بطيب نفس منه.

الشامية : (3/ 585، ط: دارا لفكر)
فإن كل أحد يعلم ‌أن ‌الجهاز ملك المرأة وأنه إذا طلقها تأخذه كله، وإذا ماتت يورث عنها ولا يختص بشيء منه.

الهندية: (1/ 327، ط: دارالفكر)
‌لو ‌جهز ‌ابنته وسلمه إليها ليس له في الاستحسان استرداد منها وعليه الفتوى.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
62
فتوی نمبر 1376کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --