ہم ایک کیمپ میں رہتے ہیں جہاں ایک چھوٹی مسجد بنی ہوئی ہے، قریب ہی ایک بڑی اوقاف کی مسجد بھی ہے کیمپ کے ذمہ دار کہتے ہیں کہ نماز اسی کیمپ کی مسجد میں باجماعت پڑھائیں۔
پوچھنا یہ ہے کہ کیا کیمپ کی مسجد میں نماز پڑھنا بہتر ہے یا بڑی اوقاف کی مسجد میں؟
واضح رہے کہ مصلی میں با جماعت نماز پڑھنے سے جماعت کا ثواب تو مل جائے گا، مگر مسجد کا زائد ثواب حاصل نہیں ہوگا، لہٰذا جامع مسجد قریب ہو تو وہاں نماز ادا کرنا افضل ہے، بنسبت کیمپ وغیرہ کے، تاکہ مستقل مسجد کی جماعت سے محرومی نہ ہو، البتہ کسی انتظامی مجبوری کی صورت میں مصلی میں نماز پڑھنے کی گنجائش ہے۔
*الھندیة:(116/1،ط: دار الفکر)*
وإن صلى بجماعة في البيت اختلف فيه المشايخ والصحيح أن للجماعة في البيت فضيلة وللجماعة في المسجد فضيلة أخرى فإذا صلى في البيت بجماعة فقد حاز فضيلة أدائها بالجماعة وترك الفضيلة الأخرى، هكذا قاله القاضي الإمام أبو علي النسفي، والصحيح أن أداءها بالجماعة في المسجد أفضل وكذلك في المكتوبات.
*الشامیة:(554/1، ط: دار الفکر)*
قال في القنية: واختلف العلماء في إقامتها في البيت والأصح أنها كإقامتها في المسجد إلا في الأفضلية. اهـ"
*وفیہ ایضا:(555/1،ط: دار الفکر)*
ويصلي وإن كان واحدا لأن لمسجد منزله حقا عليه، فيؤدي حقه مؤذن مسجد لا يحضر مسجده أحد. قالوا: هو يؤذن ويقيم ويصلي وحده، وذاك أحب من أن يصلي في مسجد آخر.