الکحل والے پرفیوم میں نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
1388
عبادات / نماز /

الکحل والے پرفیوم میں نماز پڑھنے کا حکم

السلام علیکم محترم!
بہت سے پرفیوم ایسے ہوتے ہیں جن میں الکحل ہوتا ہے ، ایسے پرفیوم لگا کر نماز پڑھنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ الکحل کی دو قسمیں ہیں:
(1)وہ الکحل جو منقی ،انگور،کھجور یا چھوہارے کی شراب سے حاصل کیا گیا ہو، ایسا الکحل بالاتفاق ناپاک ہے،اس کا کسی بھی قسم استعمال اور خریدوفروخت ناجائز و حرام ہے ۔
(2)وہ الکحل جو مذکورہ بالا اشیاء کے علاوہ کسی اور چیز مثلا آلو ،شہد،گنا یا سبزی وغیرہ حاصل کیا گیا ہو تو ان کا استعمال جائز ہے ،جب تک نشہ آور نہ ہو۔
عام طور پر پرفیوم وغیرہ میں جو الکحل استعمال ہوتا ہے وہ انگور یا کھجور سےحاصل نہیں کیاجاتا، اس لیے ایسے پرفیوم کا استعمال جائز ہے اور اس قسم کے پرفیوم لگے ہوئے کپڑوں میں نماز پڑھنا صحیح ہے، تاہم اگر کسی خاص پرفیوم کے بارے میں یقین ہو جائے کہ اس میں انگور یا کھجور سے کشید کیا گیا الکحل شامل ہے تو اس پرفیوم کا استعمال اور اس کے ساتھ نماز ادا کرنا جائز نہیں ہوگا۔

حوالہ جات

*تكمله فتح المنعم:(408/3،ط:دارالعلوم)*
"و أما غير الأشربة الأربعة، فليست نجسة عند الإمام ابي حنيفة رحمه الله تعالي. و بهذا يتبين حكم الكحول المسكرة (Alcohals) التي عمت بها البلوي اليوم، فإنها تستعمل في كثير من الأدوية و العطور و المركبات الأخري، فإنها إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبيل الي حلتها أو طهارتها، و إن اتخذت من غيرهما فالأمر فيها سهل علي مذهب أبي حنيفة رحمه الله تعالي، و لايحرم استعمالها للتداوي أو لأغراض مباحة أخري ما لم تبلغ حد الإسكار، لأنها إنما تستعمل مركبةً مع المواد الأخري، ولايحكم بنجاستها أخذًا بقول أبي حنيفة رحمه الله.
و إن معظم الحكول التي تستعمل اليوم في الأودية و العطور و غيرهما لاتتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول و غيره، كما ذكرنا في باب بيوع الخمر من كتاب البيوع".

*الشامية: (6/ 459،ط:دارالفكر)*
الأصل ‌في ‌الأشياء الإباحة وأن فرض إضراره للبعض لا يلزم منه تحريمه على كل أحد، فإن العسل يضر بأصحاب الصفراء الغالبة وربما أمرضهم مع أنه شفاء بالنص القطعي، وليس الاحتياط في الافتراء على الله تعالى بإثبات الحرمة أو الكراهة اللذين لا بد لهما من دليل بل في القول بالإباحة التي هي الأصل.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
42
فتوی نمبر 1388کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --