ہمارے والدقطر میں کام کرتے تھے اور 1981 میں انتقال کر گئے، وہ قطر سے والدہ کے نام پر رقم بھیجتے تھے جس سے ہماری والدہ نے زیور خریدا اور بعد میں والدہ نے پلاٹ خرید کر مکان بنایا،اس کے بعد ہماری والدہ نے ہمارے چچا سے شادی کی چاچا کا بھی انتقال ہو گیا ان سے کوئی اولاد نہیں تھی ہماری والدہ نے پہلے کسی اور سے نکاح کیا تھا ان سے ایک بیٹی تھی اب والدہ 2023 میں وفات پا گئی ہم ایک بھائی اور ایک بہن ہیں، اور ایک سوتیلا بھائی والدہ کے پہلے شوہر سے ہے (ہمارے والد سے نہیں ہے) اب پوچھنا یہ ہے کہ یہ مکان کس کی ملکیت شمار ہوگا والد کا یا والدہ کا؟ اور اس کی شرعی تقسیم کیسے ہوگی؟
*تنقیح*
محترم
اس بات کی وضاحت کریں کہ آپ کے والد نے والدہ کو رقم گھر کے خرچے کے لیے دیتے تھے یا بطور ملکیت ان کو دیتے تھے۔
*جواب تنقیح*
والد صاحب والدہ کے اکاؤنٹ میں صرف خرچے کے لیے پیسے بھیجتے تھے
پوچھی گئی صورت میں چونکہ آپ کے والد قطر سے آپ کی والدہ کے اکاؤنٹ میں پیسے صرف گھر کے خرچے کے لیے بھیجتے تھے تو ساری جائیداد،چاہے وہ گھر کی صورت میں ہو یا کمیٹی کے پیسوں کی صورت میں ہو آپ کے والد کی ملکیت تھی اس لیے والد کے انتقال کے بعد یہ جائیداد ان کے ورثا میں تقسیم کی جائے گی،والد کے انتقال کے وقت ورثا میں ایک بیٹا،ایک بیٹی اور ایک بیوہ ہے کل مال کو چوبیس حصوں میں تقسیم کیا جائے گا جس میں سے تین حصے میت کی بیوی کو دیے جائے گے چودہ حصے بیٹے کو اور سات حصے بیٹی کو دیے جائے گے۔
2) اب والدہ کا بھی انتقال ہوچکا ہے اور والد کی میراث اب تک تقسیم نہیں ہوئی والدہ کو شوہر کی میراث میں سے تین حصے دیے گئے تھے اب وہ ان کے ورثا میں تقسیم کیے جائیں گے، جس میں دو بیٹے، ایک بیٹی ہے، کل جائیداد کو پانچ حصوں پر تقسیم کیا جائے گا، ہر بیٹے کو دو اور بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا ۔
*القران الکریم:(4/ 11)*
لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ
*وفیه ایضا:(12/4)*
فان کان لکم ولد فلھن الثمن مماترکتم من بعد وصیة توصون بھا اودین.
*الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)*
وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين.