معاملات / مالی معاوضات / کاروبار

چرس کی کاشت و فروخت کا حکم

فتوی نمبر : 1403 0000-00-00 185 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں کہ ہمارے گاؤں میں چرس کی کاشت کی جاتی ہے،آیا جب چرس کی کھیت پک جاے تو اسکا بیچنا جائز ہے یعنی پورے کھیت کو یا نہیں، دوسری بات یہ ہے کہ آیا اسکو کاٹ کر چرس نکالنا اسکا بیچنا جائز ہے یا نہیں دونوں صورتوں کی وضاحت فرمائیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ چرس ایک ایسا پودا ہے جس کا حکم اس کے مقصد اور استعمال پر منحصر ہے۔جائز اور مباح مقاصد، جیسے دوائی یا دیگر مفید استعمال کے لیے چرس کی کاشت و خرید و فروخت جائز ہے اور صرف نشہ آور اشیاء بنانے یا دیگر ناجائز کاموں کے لیے اس کی کاشت و خرید و فروخت ناجائز ہے۔ اگر چرس کو صرف دوا بنانے کے لیے کاشت کیا جائے اور کسی مستند کمپنی یا طبی ادارے کو فروخت کی جائے تو یہ جائز ہے، اس کی کمائی بھی حلال ہے اور اس مال سے زکاۃ ادا کی جائے گی، البتہ جس شخص کے بارے میں یقین ہو کہ وہ اسے نشہ یا غلط مقصد کے لیے استعمال کرے گا، اسے فروخت کرنا مکروہ تحریمی ہے۔

*الدر المختار:(677/1،ط: دارالفكر)* (وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. قلت: وقد سئل ابن نجيم عن بيع الحشيشة هل يجوز؟ فكتب لا يجوز، فيحمل على أن مراده بعدم الجواز عدم الحل. *الشامية:(391/6،ط: دارالفكر)* (و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق *المبسوط للسرخسى:(9/24،ط: دار المعرفة)* (ألا ترى) أن البنج لا بأس بأن يتداوى به الإنسان، فإذا كاد أن يذهب عقله منه، فلا ينبغي أن يفعل ذلك. *کفایت المفتی:(129/9،ط: دارالاشاعت)* افیون ، چرس ،بھنگ یہ تمام چیزیں پاک ہیں اور ان کا دوا میں خارجی استعمال جائز ہے، نشہ کی غرض ان کو استعمال کرنا نا جائز ہے۔مگر ان سب کی تجارت بوجہ فی الجملہ مباح الاستعمال ہونے کے مباح ہے،تجارت تو شراب اور خنزیر کی حرام ہے کہ ان کا استعمال خارجی بھی نا جائز ہے۔
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)