آداب مسجد

مسجد میں ذاتی ضروریات کے تعاون کے لیےاعلان کرنا

فتوی نمبر :
1434
عبادات / احکام مسجد / آداب مسجد

مسجد میں ذاتی ضروریات کے تعاون کے لیےاعلان کرنا

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہمارےمسجد میں لوگ آتے ہیں اور اپنی غربت کی وجہ سے لوگوں سے چندہ کے لیے اعلان کرتے ہیں، بعض لوگ انہیں منع کرتے ہیں یہ لوگوں کا منع کرنا قرآن کریم کی آیت” و اما السائل فلا تنھر “ میں داخل نہیں ہوگا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ مسجد میں اپنی ذاتی ضروریات کے لیے چندہ کا اعلان کرنا مسجد کے آداب کے خلاف ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں منع کرنے والے قرآنی حکم ” واما السائل فلا تنھر “ میں داخل نہیں ہوں گے ۔
بعض علماء تفسیر کے نزدیک آیت میں دینی سوال مراد ہے، لہذا اس صورت میں بھی منع کرنے والے اس وعید میں داخل نہیں ہوں گے ۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (6/ 417، ط: دارالفكر)
يكره إعطاء سائل المسجد إلا إذا لم يتخط رقاب الناس في المختار كما في الاختيار ومتن مواهب الرحمن لأن عليا تصدق بخاتمه في الصلاة فمدحه الله بقوله - {ويؤتون الزكاة وهم راكعون} .
الدر المختار مع ردالمحتار:( 2/ 164،ط: دارالفکر)
"ويكره التخطي للسؤال بكل حال.
(قوله: ويكره التخطي للسؤال إلخ) قال في النهر: والمختار أن السائل إن كان لايمر بين يدي المصلي ولايتخطى الرقاب ولايسأل إلحافاً بل لأمر لا بد منه فلا بأس بالسؤال والإعطاء اهـ ومثله في البزازية. وفيها: ولايجوز الإعطاء إذا لم يكونوا على تلك الصفة المذكورة. قال الإمام أبو نصر العياضي: أرجو أن يغفر الله - تعالى - لمن يخرجهم من المسجد. وعن الإمام خلف بن أيوب: لو كنت قاضياً لم أقبل شهادة من يتصدق عليهم. اهـ. وسيأتي في باب المصرف أنه لايحل أن يسأل شيئاً من له قوت يومه بالفعل أو بالقوة كالصحيح المكتسب ويأثم معطيه إن علم بحالته لإعانته على المحرم".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
52
فتوی نمبر 1434کی تصدیق کریں