لے پالک کے احکام

بچہ کو گود لینے کا حکم

فتوی نمبر :
1493
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / لے پالک کے احکام

بچہ کو گود لینے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
میرے بھائی کے ہاں بیٹے پیدا نہیں ہوئے، اب وہ کسی سے بچہ لے رہا ہے تو کیا اس کے لیے بچہ لینا جائز ہے؟ وضاحت فرما دیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ کسی بچے کو گود لے کر پالنا اور اس کی کفالت کرنا شرعاً جائز اور باعثِ ثواب ہے، مگر چند باتوں کا خیال ضروری ہے:
(1) لے پالک بچے کی نسبت ہمیشہ اس کے حقیقی والد کے نام سے کی جائے۔
(2) گود لینے سے محرمیت قائم نہیں ہوتی، لہٰذا اگر گود لینے والا یا والی اس بچے کے لیے نا محرم ہو تو بلوغت کے بعد پردے کا اہتمام لازم ہے۔
(3) وراثت میں بھی لے پالک کو وارث کا درجہ حاصل نہیں ہوتا، البتہ وصیت یا ہبہ کے ذریعے کچھ دیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(الأحزاب:4:33)*
"وَمَا جَعَلَ أَدْعِيَآءَكُمْ أَبْنَآءَكُمْ ذَٰلِكُمْ قَوْلُكُم بِأَفْوَٰهِكُمْ وَٱللَّهُ يَقُولُ ٱلْحَقَّ وَهُوَ يَهْدِي ٱلسَّبِيلَ ٱدْعُوهُمْ لِأٓبَآئِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ ٱللَّهِۚ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوٓاْ ءَابَآءَهُمْ فَإِخْوَٰنُكُمْ فِي ٱلدِّينِ وَمَوَٰلِيكُمۡۚ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٞ فِيمَآ أَخْطَأۡتُم بِهِۦ وَلَٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمۡۚ وَكَانَ ٱللَّهُ غَفُورٗا رَّحِيمًا"

*مشكاة المصابيح:(990/2، رقم الحديث:3314،ط:المكتب الاسلامي)*
وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا: قال رسول الله ﷺ: «من ادعى إلى غير أبيه وهو يعلم أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام».

*مرقاة المفاتيح:(2170/5،رقم الحديث :3314،ط: دارالفكر)*
- (وعن سعد بن أبي وقاص وأبي بكرة قالا: قال رسول الله ﷺ: (من ادعى): بتشديد الدال أي انتسب (إلى غير أبيه وهو يعلم): أي: والحال أنه يعلم (أنه غير أبيه فالجنة عليه حرام): أي: إن اعتقد حله، أو قبل أن يعذب بقدر ذنبه، أو محمول على الزجر عنه ; لأنه يؤدي إلى فساد عريض، وفي بعض النسخ: فالجنة حرام عليه، وهو مخالف للأصول المعتمدة. (متفق عليه)

*التفسیر المظهري:(284/7،ط:مكتبةالرشديةباكستان)*
فلا يثبت بالتبني شىء من احكام النبوة من الإرث وحرمة النكاح وغير ذلك.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
50
فتوی نمبر 1493کی تصدیق کریں