السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! ہمارے ہاں امام صاحب تراویح کی نماز کچھ تیزی سے پڑھاتے ہیں، جس کی وجہ سے بعض اوقات مقتدیوں کی تشہد (التحیات) مکمل نہیں ہوتی کہ امام صاحب سلام پھیر دیتے ہیں۔
ایسی صورت میں کیا مقتدی امام کے ساتھ ہی سلام پھیر دے، یا اپنی تشہد مکمل کر کے پھر سلام پھیرے؟
مزید یہ کہ اگر کوئی مقتدی درود شریف میں ہو تو کیا وہ بھی امام کے ساتھ سلام پھیر سکتا ہے، یا پہلے اپنی قرأت مکمل کرے؟
نماز چاہے فرض ہو یا تراویح تمام ارکان کی رعایت کرتے ہوئے سکون و اطمینان سے ادا کرنی چاہیے، رکوع اور سجود اطمینان کے ساتھ کرنا چاہیے، نیز تراویح کی نماز میں قعدہ میں تشہد ، درود شریف اور دعا بھی مکمل پڑھنی چاہیے، جلد بازی میں ان میں سے کسی ایک پر اکتفا کر کے باقی کو ترک کرنا درست نہیں، البتہ اگر امام تشہد ، درود شریف اور دعا روانی سے پڑھ لیتا ہو اور مقتدی کے تشہد پڑھنے کے بعد درود شریف اور دعا مکمل کرنے سے پہلے اسلام پھیر دے تو مقتدی کے لیے حکم یہ ہے کہ صرف التحیات مکمل کر کے امام کے ساتھ سلام پھیر دے، درود شریف مکمل کرنا ضروری نہیں اور اگر کسی مقتدی نے تشہد مکمل نہ کیا ہو تو وہ پہلے اپنا تشہد مکمل کرے، پھر سلام پھیرے، کیونکہ تشہد مکمل کرنا واجب ہے۔
*الھندیة:(99/1، ط: دار الفكر)*
إذا أدرك الإمام في القراءة في الركعة التي يجهر فيها لا يأتي بالثناء. كذا في الخلاصة هو الصحيح. كذا في التجنيس وهو الأصح۔۔۔۔إذا أدرك الإمام في التشهد وقام الإمام قبل أن يتم المقتدي أو سلم الإمام في آخر الصلاة قبل أن يتم المقتدي التشهد فالمختار أن يتم التشهد.
*الدر المختار وحاشية ابن عابدين:(518/1،ط: دار الفكر)*
(وصلى على النبي صلى الله عليه وسلم) ... وسنة في الصلاة، ومستحبة في كل أوقات الإمكان.
(قوله: وسنة في الصلاة) أي في قعود أخير مطلقاً، وكذا في قعود أول في النوافل غير الرواتب، تأمل".
*الشامية:(474/1،ط: دار الفكر)*
(وسننها) ترك السنة لا يوجب فسادا ولا سهوا بل إساءة لو عامدا غير مستخف۔۔۔قوله لا يوجب فسادا ولا سهوا) أي بخلاف ترك الفرض فإنه يوجب الفساد، وترك الواجب فإنه يوجب سجود السهو.