احکام وراثت

میت کی بیٹے، پوتی اور بہو میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
1541
معاملات / ترکات / احکام وراثت

میت کی بیٹے، پوتی اور بہو میں تقسیم میراث

محمد یوسف اور اسکی بیوی دونوں ہی انتقال کر گئے تین اولاد چھوڑ ی ایک لڑکی دو لڑکے جن میں سے لڑکی کو طلاق ہوا اور انتقال ہوا اولاد کوئ نہیں باقی رہے دو لڑکے ان میں سے بھی ایک کا انتقال ہوگیا لیکن بیوی اور اور ایک بچی کو پیچھے چھوڑ ا اب معلوم یہ کرنا ہیکہ مرحوم محمد یوسف کی میراث 472000 ایک لڑکے اور دوسرے مرحوم لڑکے کی بیوی اور بچی کے درمیان کیسے تقسیم ہوگی البتہ باقی جائداد رضامندی سے تقسیم ہوچکی ہے۔
*تنقیح:*
محترم آپ نے سوال میں بتایا کہ محمد یوسف، ان کی بیوی اور ایک لڑکے اور لڑکی کا انتقال ہو گیا ، لڑکی کا انتقال طلاق کے بعد ہوا ان سب چیزوں کو تفصیل سے بیان کریں کس کا انتقال کب ہوا ترتیب وار بیان کریں ۔
*جوابِ تنقیح:*
لڑکی اور لڑکے کا انتقال ان کے والد کے بعد ہوا ہے اور لڑکی کو پہلے طلاق ملی تھی اس کے بعد اس کی ڈیتھ ہو گئی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں میت کے مال میں سے میت کی تجہیز وتکفین، قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی مال میں نافذ کرنے کے بعد بچ جانے والے ترکہ کے کل 16 (سولہ) حصے کیے جائیں گے، جن میں سے میت کے بیٹے کو 11 (گیارہ) حصے، فوت شدہ بیٹے کی بیٹی کو 4 (چار) حصے اور فوت شدہ بیٹے کی بیوہ کو ایک حصہ دیا جائے گا ۔

اس تقسیم کی رو سے میت کے کل ترکہ چار لاکھ بہتر ہزار (472000) میں سے مرحوم کے بیٹے کو تین لاکھ چوبیس ہزار پانچ سو(324500)، مرحوم بیٹے کی بیٹی کو ایک لاکھ اٹھارہ ہزار (118000) اور مرحوم بیٹے کی بیوہ کو انتیس ہزار پانچ سو (29500) روپے دیے جائیں گے ۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(6:12،النساء)*
وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ.فان کان لکم ولد فلھن الثمن مِمَّا تَرَكْتُمْ من بعد وصیة.

*الھندية :(6/ 451،ط:دارالفکر)*
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
47
فتوی نمبر 1541کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --