"ایک شخص نے کسی آدمی سے تقریباً پانچ، چھ لاکھ روپے لیے ،تاکہ سامان خرید کر کاروبار کرے، اس نے وہ پیسے لے کر سامان خرید بھی لیا، لیکن نفع آپس میں متعین نہیں کیا تھا اور اب وہ سامان دکان میں رکھا ہوا ہے اور ابھی تک استعمال یا فروخت نہیں کیا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ معاملہ شرعاً کس نوعیت کا ہے؟ اور اگر یہ سود کے زمرے میں آتا ہے تو اس کی شرعی درستگی کے لیے کیا ترتیب اختیار کی جائے؟
واضح رہے کہ مذکور شخص نے دوسرے آدمی سے جو پیسے لیےاور اس میں نفع کی شرح متعین نہیں کی تو یہ عقد ہی درست نہیں ہوا، لہذا آپس میں نفع فیصد کے اعتبار سےمتعین کرکے کاروبار شروع کیا جائے۔
الشامية: (4/ 305)
فما كان من ربح فهو بينهما على قدر رءوس أموالهما،»
أيضا :(5/ 648)
(وكون الربح بينهما شائعا) فلو عين قدرا فسدت (وكون نصيب كل منهما معلوما) عند العقد.
ومن شروطها: كون نصيب المضارب من الربح حتى لو شرط له من رأس المال أو منه ومن الربح فسدت، وفي الجلالية كل شرط يوجب جهالة في الربح أو يقطع الشركة فيه يفسدها، وإلا بطل الشرط وصح العقد اعتبارا بالوكالة.
بدائع الصنائع: (6/ 59،ط: دار الكتب العلمية)
(ومنها) : أن يكون الربح جزءا شائعا في الجملة، لا معينا، فإن عينا عشرة، أو مائة، أو نحو ذلك كانت الشركة فاسدة؛ لأن العقد يقتضي تحقق الشركة في الربح والتعيين يقطع الشركة لجواز أن لا يحصل من الربح إلا القدر المعين لأحدهما، فلا يتحقق الشركة في الربح.