احکام وراثت

تقسیم میراث

فتوی نمبر :
160
معاملات / ترکات / احکام وراثت

تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ والد کے انتقال کے بعد وراثت توڑ کر نابانٹی جاتی ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

الجواب باسم ملہم الصواب
واضح رہے کہ والد کے انتقال کے بعد وراثت شرعی طریقہ سے تقسیم کی جائے گی ۔

حوالہ جات

دلائل :
الدرالمختار مع رد المحتار: (6/ 761، ط:دارالفكر )
(يقسم الباقي) بعد ذلك (بين ورثته) أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة .

الفتاوى الهندية:(6/ 447، ط:دارالفكر)
‌ثم ‌يقسم ‌الباقي بين الورثة على سهام الميراث .

السراجي : ص 3 ، ط : قديمي كراچی
ثم يقسم الباقي بين ورثته بالكتاب والسنة واجماع الامة .

واللہ تعالیٰ اعلم بالصواب
سیف اللہ خالد
متخصص جامعہ دارالعلوم حنفیہ ، کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
172
فتوی نمبر 160کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --