شرک و مشرکانہ عقائد

کسی کے مزار پر اولاد مانگنے کا حکم

فتوی نمبر :
1624
عقائد / ایمان و کفر / شرک و مشرکانہ عقائد

کسی کے مزار پر اولاد مانگنے کا حکم

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام
اس مسئلہ کے بارے میں کہ
ایک بندہ ناسمجھی کی حالت میں کسی مزار پر گیا، وہاں اولاد مانگنے یا کچھ بھی مانگنے کے لئے
اب وہ جس علاقے سے جاتا تھا اس علاقے کے تمام لوگ جایا کرتے تھے کسی سیزن میں اور وہاں جاکر کوئی اولاد مانگ رہا ہے کوئی دولت مانگ رہا ہے تو اس بندے کا کیا حکم ہے جو جایا کرتے تھے اب وہ جانے والے فوت ہوگئے ہیں اور جس زمانے میں وہ جایا کرتے تھے اس وقت کوئی سمجھانے والا بھی نہیں تھا اس علاقے میں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ


واضح رہے کہ کسی مزار پر جاکر اولاد مانگنا یا صاحب مزار کو سجدہ کرنے کی درج ذیل صورتیں ہیں:
(1)اگر صاحب مزار کو قادر بالذات سمجھ کر اس سے اولاد مانگے یا اس کو سجدہ کرے تو یہ حرام اور شرک ہے۔
(2)اگر صاحب مزار کو قادر بالذات نہیں سمجھتا ،لیکن قادر بعطائے الٰہی سمجھتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے قدرت اور اختیار عطاء کیا ہے کہ جو امور طاقت بشری سے باہر ہیں، ان میں جس طرح چاہے تصرف کرے اور جس کو چاہے دے اور جس کو چاہے نہ دے ،یعنی معاذ اللہ، خدا تعالیٰ نے بھی کچھ اختیارات انبیاء اور اولیاء کو عطاء کیے ہیں اور وہ بعد عطاء الٰہی مستقل اور مختار ہیں، مشرکین عرب، ملائکہ اور اصنام کے متعلق بعینہ یہی عقیدہ رکھتے تھے، اس لیے یہ بھی ناجائز و حرام اور شرک کے زمرے میں آتا ہےـ
(3)تیسری صورت یہ ہے کہ صاحب مزار کو تو قادر بالذات نہیں سمجھتا، لیکن معاملہ اس کے ساتھ مستقل بالذات کا سا کرے، مثلاً اس کو یا اس کی قبر کو سجدہ کرے یا اس کے نام کی نذر مانے تو یہ بھی حرام اور شرک ہے، لیکن یہ شرک اعتقادی نہیں، بلکہ عملی ہے۔ اس کا مرتکب حرام کا مرتکب سمجھا جائے گا۔ دائرہ اسلام سے خارج نہ ہوگا۔
(4)چوتھی صورت یہ ہے صاحب مزار کے وسیلہ سے اللہ سے مدد مانگی جائے تو یہ جائز ہےـ
(5)پانچویں صورت یہ ہے کہ صاحب مزار سے کہا جائے کہ اے فلاں' تم میرے لیے یہ دعا کرو کہ اللہ میرا یہ کام پورا کردے اس میں علماء کا اختلاف ہے ، جو علماء سماع موتی کے قائل ہیں ان کے نزدیک اس طرح کرنا جائز ہے۔

لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکور شخص کی نیت اس مزار والے سے اولاد مانگنے کی تھی تو اسے چاہیے کہ اس عمل پر توبہ و استغفار کرے۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:(الآية:3،39)
اَلَا لِلّٰهِ الدِّیْنُ الْخَالِصُؕ-وَ الَّذِیْنَ اتَّخَذُوْا مِنْ دُوْنِهٖۤ اَوْلِیَآءَۘ-مَا نَعْبُدُهُمْ اِلَّا لِیُقَرِّبُوْنَاۤ اِلَى اللّٰهِ زُلْفٰىؕ-اِنَّ اللّٰهَ یَحْكُمُ بَیْنَهُمْ فِیْ مَا هُمْ فِیْهِ یَخْتَلِفُوْنَ۬ؕ-اِنَّ اللّٰهَ لَا یَهْدِیْ مَنْ هُوَ كٰذِبٌ كَفَّارٌ(3)

الموسوعة الفقهية: (4/ 17،ط:دارالسلاسل)
تنقسم الاستعانة إلى استعانة بالله، واستعانة بغيره.
فالاستعانة بالله سبحانه وتعالى مطلوبة في كل شيء: مادي مثل قضاء الحاجات، كالتوسع في الرزق، ومعنوي مثل تفريج الكروب، مصداقا لقوله تعالى: {إياك نعبد وإياك نستعين} . وقوله تعالى: {قال موسى لقومه استعينوا بالله واصبروا} .وتكون الاستعانة بالتوجه إلى الله تعالى بالدعاء، كما تكون بالتوجه إليه تعالى بفعل الطاعات، لقوله تعالى: {واستعينوا بالصبر والصلاة}.

أما الاستعانة بغير الله، فإما أن تكون بالإنس أو بالجن.فإن كانت الاستعانة بالجن فهي ممنوعة، وقد تكون شركا وكفرا، لقوله تعالى: {وأنه كان رجال من الإنس يعوذون برجال من الجن فزادوهم رهقا} وأما الاستعانة بالإنس فقد اتفق الفقهاء على أنها جائزة فيما يقدر عليه من خير، لقوله تعالى: {وتعاونوا على البر والتقوى ولا تعاونوا على الإثم والعدوان} وقد يعتريها الوجوب عند الاضطرار، كما لو وقع في تهلكة وتعينت الاستعانة طريقا للنجاة، لقوله تعالى: {ولا تلقوا بأيديكم إلى التهلكة}.
فتاوی رشیدیہ میں ایک سوال کے جواب میں ہے :
’’قبر کے پا س جا کر کہے کہ اے فلاں تم میرے واسطے دعا کرو کہ حق تعالی میرا کام کردیوے اس میں اختلاف علماء کا ہے ،مجوز سماع موتی اس کے جواز کے مقر ہیں اور مانعین سماع منع کرتے ہیں سو اس کا فیصلہ اب کرنا محال ہے ، مگر انبیاء علیہم السلام کے سماع میں کسی کو خلاف نہیں اسی وجہ سے ان کومستثنی کیاہے اور دلیل جواز یہ ہے کہ فقہاء نے بعد سلام کے وقت زیارت قبر مبارک شفاعت مغفرت کا عرض کرنا لکھا ہے پس جواز کے واسطےیہ کافی ہے ۔‘‘
(کتاب العلم ، ص: 152، ط:عالمی مجلس تحفظ اسلام)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
74
فتوی نمبر 1624کی تصدیق کریں
-- متعلقه موضوعات --