اگر کوئی شخص یہ کہہ کر طلاق دے کہ میرے بھائی یہ کام کرے تو جس دن میری بیوی فلاں جگہ سے گھر آئے اس دن اس پر تین طلاق تو کیا ایسی صورت میں طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟
واضح رہے کہ طلاق کو کسی شرط کے ساتھ معلق کرنے کی صورت میں اگر شرط پائی جائے تو طلاق واقع ہو جاتی ہے، اگر شرط نہ پائی جائے تو طلاق واقع نہیں ہوتی، لہذا پوچھی گئی صورت میں اگر مذکور شخص کا بھائی وہ کام کر لے جس کے ساتھ طلاق کو معلق کیا ہے تو مذکورشخص کی بیوی کے گھر آنے کے ساتھ ہی تین طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔
واضح رہے کہ تین طلاقیں واقع ہونے کی صورت میں شوہر کو عدت کے دوران رجوع کا حق نہیں رہتا اور نہ ہی عدت کے بعد وہ دونوں دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں، جب تک عورت کسی اور مرد سے نکاح نہ کرے اور اس کے ساتھ حقوقِ زوجیت ادا نہ کرے، پھر اگر دوسرا شوہر اسے طلاق دے دے یا وہ وفات پا جائے اور اس کی عدت مکمل ہو جائے تو اس کے بعد عورت اور پہلا شوہر دونوں کی رضا مندی سے، نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں، دوبارہ نکاح کر سکتے ہیں۔
*الشامية: (3/ 760،ط:دارالفكر)*
(حلف لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى إليه) عرفا ولو تبعا أو بإعارة باعتبار عموم المجاز ومعناه
مطلب لا يدخل دار فلان يراد به نسبة السكنى
(قوله ولو تبعا) حتى لو حلف لا يدخل دار أمه أو بنته وهي تسكن مع زوجها حنث بالدخول نهر عن الخانية.
قلت: وهو خلاف ما سيذكره آخر الأيمان عن الواقعات لكن ذكر في التتارخانية أن فيه اختلاف الرواية ويظهر لي أرجحية ما هنا حيث كان المعتبر نسبة السكنى عرفا ولا يخفى أن بيت المرأة في العرف ما تسكنه تبعا لزوجها وانظر ما سنذكره آخر الأيمان (قوله أو بإعارة) أي لا فرق بين كون السكنى بالملك أو بالإجارة أو العارية إلا إذا استعارها ليتخذ فيها وليمة فيدخلها الحالف فإنه لا يحنث كما في العمدة والوجه فيه ظاهر نهر أي لأنها ليست مسكنا له (قوله باعتبار عموم المجاز إلخ) مرتبط بقوله يراد يعني أن الأصل في دار زيد أن يراد بها نسبة الملك، وقد أريد بها ما يشمل العارية ونحوها وفيه جمع بين الحقيقة والمجاز وهو لا يجوز عندنا. فأجاب بأنه من عموم المجاز بأن يراد به معنى عام يكون المعنى الحقيقي فردا من أفراده وهو نسبة السكنى: أي ما يسكنها زيد بملك أو عارية.
*الھندیة:(420/1،دارالفکر)*
إذا أضافه الى شرط وقع عقيب الشرط اتفاقامثل أن يقول لإمراته إن دخلت الدارفأنت طالق.
*العناية شرح الھدایة:( 4/116،ط دارالکفر )*
أَضَافَهُ إلَى شَرْطٍ وَقَعَ عَقِيبَ الشَّرْطِ مثْل أَنْ يَقُول لِامْرَأَتِه إنْ دَخَلْت الدَّارَ فَأَنْتِ طَالِق.
*بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع:(3/ 187،ط: دار الكتب العلمية)*
وأما الطلقات الثلاث فحكمها الأصلي هو زوال الملك، وزوال حل المحلية أيضا حتى لا يجوز له نكاحها قبل التزوج بزوج آخر؛ لقوله عز وجل {فإن طلقها فلا تحل له من بعد حتى تنكح زوجا غيره} [البقرة: 230] ، وسواء طلقها ثلاثا متفرقا أو جملة واحدة.