مفتی صاحب !
ایک شخص اپنی بیوی کو یہ کہتے ہوئے کنایہ الفاظ استعمال کرتا ہے کہ اگر تم سب کے سامنے سچ بولو گی تو میرے ساتھ رہ سکتی ہو اور اگر جھوٹ بولوگی تو میرے طرف سے تم فارغ ہو، اس کے بعد اس کی بیوی اس کے ساتھ سب کے سامنے جھوٹ بولتی ہے ، اور اس کے کچھ دیر کے بعد وہ سچ بول دیتی ہے
اب سوال یہ ہے کہ اس کی پہلی بات تسلیم کی جائے گی یا دوسری ؟ رہنمائی فرمائیں ۔
واضح رہے کہ میری طرف سے تم فارغ ہو طلاق کے الفاظ کنایہ ہے اس سے طلاق بائن واقع ہوجاتی ہے ۔
پوچھی گئی صورت میں شوہر نے طلاق کو سچ بولنے کے ساتھ معلق کردیا ہے اور وہ شرط پائی گئی ہے ، لہذا ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے ، اور شوہر کے پاس اب صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی ہے ، اب اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے ایک ساتھ رہنا چاہیں، تو نئے مہر کے ساتھ دوگواہوں کی موجودگی میں دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ۔
الدرالمختار: (3/ 352، ط: دارالفكر)
كأنت طالق لو دخلت الدار تعلق بدخولها، ومن نحو من دخل منكن الدار فهي طالق.
الهندية: (1/ 374، ط: دارالفكر)
(الفصل الخامس في الكنايات) لا يقع بها الطلاق إلا بالنية أو بدلالة حال كذا في الجوهرة النيرة. ثم الكنايات ثلاثة أقسام (ما يصلح جوابا لا غير) أمرك بيدك، اختاري، اعتدي (وما يصلح جوابا وردا لا غير) اخرجي اذهبي اعزبي قومي تقنعي استتري تخمري (وما يصلح جوابا وشتما) خلية برية بتة بتلة بائن حرام ... ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق في الألفاظ كلها إلا بالنية .
الموسوعة الفقهية : (29/ 38، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية )
فإذا حصل الشرط المعلق عليه وقع الطلاق، دون اشتراط الفور إلا أن ينويه.
ايضا : (29/ 53، ط: وزارة الاوقاف الشئون الاسلامية )
اتفق الفقهاء على أن الزوج إذا طلق زوجته بائنا لا يعود إليها إلا بعقد جديد، في العدة أم بعدها .