خانقاہ میں چلہ لگانے کا حکم

فتوی نمبر :
1700
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

خانقاہ میں چلہ لگانے کا حکم

مشائخ، خانقاہ میں اپنی اصلاح کی غرض سے چلہ لگانے کی بڑی اہمیت بیان کرتے ہیں، چلہ لگانے کی کوئی اصل اور بنیاد ہے، اس کا کوئی ثبوت ہے؟
اسی طرح چلہ لگانے کے ہمارے باطن پر کیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟مدلل جواب عنایت فرمائیں۔
بينوا توجروا

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

نفس کی اصلاح کے کئی طریقے ہیں، جن میں سے ایک طریقہ کسی متبعِ شریعت بزرگ کی صحبت اختیار کرنا ہے، جیسا کہ قرآن کریم میں فرمایا گیا: "اتقوا الله وکونوا مع الصادقین" اگر کوئی بزرگ سنت و شریعت کے پابند اور اہلِ علم کے نزدیک معتبر ہوں تو ان کی خانقاہ میں قیام کرنا اور ان سے استفادہ مفید ہوتا ہے، ان کے بتائے ہوئے اذکار و وظائف کی پابندی سے روحانی ترقی حاصل ہوتی ہے، انسان گناہوں سے بچ جاتا ہے،
اہلِ حق کے ہاں رائج اصلاحی طریقے سنت سے ماخوذ ہیں، جیسا کہ بعض صحابہ کرام رضی اللہ عنہم مستقل طور پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میں رہ کر اپنی اصلاح کرتے تھے، تاہم خانقاہ میں چلہ،دس دن لگانا اصلاحِ امت کے لیے انتظامی نظم ہیں، عبادت کے طور پر مخصوص نہیں، لہذا اس کے لیے قرآن و حدیث سے براہِ راست ثبوت مانگنا اور اسے بدعت کہنا درست نہیں ، کیونکہ چلہ کی تعیین دین میں زیادتی نہیں، بلکہ دین کی خدمت،اشاعت اور حفاظت کے لیے ہے۔

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(التوبة:119:9)*
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ

*صحيح مسلم:(132/5،رقم الحديث: 17(1718)،ط: دار طوق النجاة)*
حدثنا أبو جعفر محمد بن الصباح، وعبد الله بن عون الهلالي جميعا عن إبراهيم بن سعد قال ابن الصباح: حدثنا إبراهيم بن سعد بن إبراهيم بن عبد الرحمن بن عوف ، حدثنا أبي ، عن القاسم بن محمد ، عن عائشة قالت: قال رسول الله ﷺ: «من أحدث في أمرنا هذا ما ليس منه فهو رد ».

*فيض الباري:(252/1،ط:دار الكتب العلمية)*
حدثنا عثمان بن أبى شيبة قال حدثنا جرير عن منصور عن أبى وائل قال كان عبد الله يذكر الناس فى كل خميس، فقال له رجل يا أبا عبد الرحمن لوددت أنك ذكرتنا كل يوم. قال أما إنه يمنعنى من ذلك أنى أكره أن أملكم، وإنى أتخولكم بالموعظة كما كان النبى - ﷺ - يتخولنا بها، مخافة السآمة علي....يريد أن مثل هذه التعينات لا تعد بدعة، والبدعة عندي ما لا تكون مستندة إلى الشرع، وتكون ملتبسة بالدين، ولذا يقال إن الرسوم التي جرت في المصائب بدعة دون التي في مواضع السرور، كالأنكحة وغيرها فإن الأولى تعد كأنها من الدين فتلتبس به بخلاف الثانية. والسر فيه أن رسوم المسرات أكثرها تكون من باب اللهو واللعب فلا تلتبس بالدين عند سليم الفطرة، بخلاف رسوم نحو الموت فإن غالبها يكون من جنس العبادات فيتحقق فيها الالتباس.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
35
فتوی نمبر 1700کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --