السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتی صاحب!
مسئلہ یہ ہے کہ اگر کسی نے یہ قسم کھائی، ماں و باپ سے بات نہیں کروں گا تو کیا اس طرح قسم کھانا صحیح ہے؟
اس کے بارے میں شرعی حکم کیا ہے؟
واضح رہے کہ اگر کسی بندے نے گناہ کرنے کی قسم کھالی تو اس بندے کے لیے اس قسم کو توڑنا واجب ہے، ماں باپ سے باتیں نہ کرنے کی قسم کھانا یہ بھی معصیت میں شامل ہے، اس لیے اس کو توڑنا ضروری ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں قسم کو توڑ کر اس کا کفارہ ادا کریں۔
کفارہ کی تفصیل یہ ہے کہ دس مسکینوں کو دو وقت کا پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے یا بقدر ضرورت کپڑا دے دے اور اگر ان میں سے کسی ایک کی بھی گنجائش نہ ہو تو پھر تین دن لگاتار روزے رکھے ۔
*القرآن الکریم :[المائدة5: 89]*
لَا يُؤَاخِذُكُمُ ٱللَّهُ بِٱللَّغۡوِ فِيٓ أَيۡمَٰنِكُمۡ وَلَٰكِن يُؤَاخِذُكُم بِمَا عَقَّدتُّمُ ٱلۡأَيۡمَٰنَۖ فَكَفَّٰرَتُهُۥٓ إِطۡعَامُ عَشَرَةِ مَسَٰكِينَ مِنۡ أَوۡسَطِ مَا تُطۡعِمُونَ أَهۡلِيكُمۡ أَوۡ كِسۡوَتُهُمۡ أَوۡ تَحۡرِيرُ رَقَبَةٖۖ فَمَن لَّمۡ يَجِدۡ فَصِيَامُ ثَلَٰثَةِ أَيَّامٖۚ ذَٰلِكَ كَفَّٰرَةُ أَيۡمَٰنِكُمۡ إِذَا حَلَفۡتُمۡۚ
*سنن الترمذي :(4/ 106، حديث: 1529 ط: شركة مكتبة ومطبعة مصطفى البابي )*
عن عبد الرحمن بن سمرة قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «يا عبد الرحمن، لا تسأل الإمارة، فإنك إن أتتك عن مسألة وكلت إليها، وإن أتتك عن غير مسألة أعنت عليها، وإذا حلفت على يمين فرأيت غيرها خيرا منها فأت الذي هو خير، ولتكفر عن يمينك .
*عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (23/ 226، ط :دارالفكر)*
إني والله إن شاء الله لا أحلف على يمين فأرى غيرها خيرا منها إلا أتيت الذي هو خير وتحللتها).هذا الحديث لا يدل إلا على أن الكفارة بعد الحنث.
*صحيح مسلم: (3/ 1272 ، حديث:1650 ، ط: دار احياء التراث )*
عن أبي هريرة. قال ....فقال رسول الله (من حلف على يمين، فرأى غيرها خيرا منها، فليأتها، وليكفر عن يمينه).