مدرسے،اسکول کی انتظامیہ کا طالب علم کا موبائل توڑنا

فتوی نمبر :
1831
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

مدرسے،اسکول کی انتظامیہ کا طالب علم کا موبائل توڑنا

مفتی صاحب!
ہمارے ادارے میں طلبہ کو موبائل استعمال کرنے سے منع کیا جاتا ہے، لیکن وہ پھر بھی موبائل لاتے ہیں تو کیا کوئی استاذ طالب علم کا موبائل توڑ سکتا ہے ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تعلیمی اداروں میں نظم و ضبط برقرار رکھنا اور طلبہ کے وقت کو ضائع ہونے سے بچانا انتظامیہ کی اہم ذمہ داری ہے، تاہم اس مقصد کے لیے ایسے اقدامات اختیار کرنا ضروری ہے جو شریعت کے اصولوں کے مطابق ہوں، کسی طالبِ علم سے موبائل مستقل طور پر ضبط کرلینا یا اسے توڑ دینا مالی تعزیر ہے جو شرعاً جائز نہیں اور ایسا کرنے کی صورت میں انتظامیہ شرعاً ذمہ دار ہوگی۔
البتہ طلبہ کی تعلیم میں بہتری، بے جا مصروفیت سے بچانے اور تعلیمی ماحول کو بہتر بنانے کے لیے ادارہ مناسب ضابطے بنا سکتا ہے، مثلاً اگر کوئی طالب علم مقررہ قواعد کی خلاف ورزی کرتا ہے تو اس کا موبائل صرف تعلیمی سال کے اختتام تک امانت کے طور پر اپنے پاس رکھ لیا جائے اور سال مکمل ہونے پر اسے واپس کر دیا جائے۔ اسی طرح ضابطے کی بار بار خلاف ورزی کرنے والے طالب علم کے بارے میں انتظامیہ ادارے سے اخراج کا فیصلہ کر سکتی ہے ۔

حوالہ جات

*الشامية:(61/4،ط: دارالفكر)*
(قوله وفيه إلخ) أي في البحر، حيث قال: وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه، لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي.

*البحر الرائق:(44/5،ط:دار الكتاب الإسلامي)*
وأفاد في البزازية أن معنى التعزير بأخذ المال على القول به إمساك شيء من ماله عنه مدة لينزجر ثم يعيده الحاكم إليه لا أن يأخذه الحاكم لنفسه أو لبيت المال كما يتوهمه الظلمة إذ لا يجوز لأحد من المسلمين أخذ مال أحد بغير سبب شرعي وفي المجتبى لم يذكر كيفية الأخذ وأرى أن يأخذها فيمسكها فإن أيس من توبته يصرفها إلى ما يرى وفي شرح الآثار التعزير بالمال كان في ابتداء الإسلام ثم نسخ. اهـ.

*بحوث في قضايا فقهية معاصرة:(295/1،ط:دار القلم)*
القاعد الثانية: المباشر ضامن، وإن لم يكن متعديا: وحاصل هذه القاعدة أن من باشر الإضرار بالغير، فهو ضامن للضرر الذي أصابه بالمضرور بفعله، وإن لم يكن المباشر متعديا، بمعني أنه لم يكن فعله محظورا في نفسه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
30
فتوی نمبر 1831کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --