حکومتی معاملات

عہدہ ٔ قضا پر فائز شخص کی شرعی حیثیت

فتوی نمبر :
1837
معاملات / حکومت و سیاست / حکومتی معاملات

عہدہ ٔ قضا پر فائز شخص کی شرعی حیثیت

السلام علیکم مفتی صاحب!
مسلمانوں یا سرکار کی طرف سے جو شخص عہدئے قضا پر فائز ہوتا ہے اس کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ عہدۂ قضا کے لیے منتخب ہونے والے شخص کا احترام لازم ہے اور اس کے جو احکامات شریعت کے مطابق ہو، وہ معتبر اور واجب العمل ہے اور بلا وجہ اس کی نافرمانی کرنا گناہ ہے۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [النساء:/4 59]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ .

البحر الرائق : (7/ 26، ط: دارالكتاب الاسلامي )
(قوله فإن حكم لزمهما) لصدوره ‌عن ‌ولاية ‌شرعية فلا يبطل حكمه بعزلهما.

تبيين الحقائق : (4/ 193، ط: دارالكتاب الاسلامي )
قال رحمه الله (فإن حكم لزمهما) لأن حكمه صدر ‌عن ‌ولاية ‌شرعية عليهما كالقاضي إذا حكم لزم، ثم بالعزل لا يبطل حكمه فكذا هذا ولأن حكمه لا يكون دون صلح جرى بينهما بتراضيهما، وفيه لا يكون لأحدهما أن يرجع عنه بعد تمامه.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
28
فتوی نمبر 1837کی تصدیق کریں