السلام علیکم ورحمة الله وبركاته
محترم مفتی صاحب! ایک فقہی سوال عرض ہے:اگر کوئی شخص نماز کے دوران سجدے میں ”سبحان ربی الأعلى“ کی جگہ ”استغفر الله“ پڑھتا ہے (یعنی غلطی سے نہیں، بلکہ جان بوجھ کر)
1)تو کیا اس کا سجدہ شرعاً درست ہوگا؟
2) کیا اس کی نماز ادا ہو جائے گی یا اعادہ (دوبارہ پڑھنا) لازم ہوگا؟
3)اور کیا اس پر سجدۂ سہو یا کوئی اور کفارہ لازم ہے؟
براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔ جزاکم الله خيراً و أحسن الجزاء.
نماز میں رکوع اور سجدوں کے دوران کم از کم تین مرتبہ تسبیح پڑھنا سنت ہے، جان بوجھ کر تین بار سے کم پڑھنا، بالکل ترک کرنا، یا تسبیح کی جگہ کوئی اور دعا پڑھنا خلافِ سنت اور مکروہ ہے، تاہم اس سے نماز فاسد نہیں ہوتی اور نہ ہی سجدۂ سہو واجب ہوتا ہے۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں مذکور شخص نے رکوع یا سجدہ میں تسبیح ترک کی یا اس کی جگہ استغفار پڑھا تو اس کا سجدہ ادا ہو جائے گا اور اس کی نماز درست ہو جائے گی، البتہ سنت کی خلاف ورزی کی وجہ سے نماز غیرِ کامل اور خلافِ سنت شمار ہوگی ،سجدہ سہو لازم نہیں ہوگا ۔
*المحيط البرهاني:(360/1،ط:دار الكتب العلمية)*
ويقول في ركوعه سبحان ربي العظيم ثلاثًا، وذلك أدناه وإن زاد فهو أفضل بعد أن يختم على وتر. فيقول خمسًا أو سبعًا، هكذا ذكر شمس الأئمة الحلواني وشيخ الإسلام خواهر زاده.
*الهندية:(74/1،ط:دار الفكر)*
كذا في الزاهدي ويقول في ركوعه: سبحان ربي العظيم ثلاثا وذلك أدناه فلو ترك التسبيح أصلا أو أتى به مرة واحدة يجوز ويكره.
*الدرالمختار:(494/1،ط: دارالفكر)*
(ويسبح فيه) وأقله (ثلاثا) فلو تركه أو نقصه كره تنزيها.