السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
محترم مفتی صاحب! امید ہے کہ آپ خیریت و عافیت سے ہوں گے۔
آج ہم دو ساتھی ایک جگہ گئے، وہاں عشاء کی نماز کا وقت ہو گیا تو قبلہ کا رخ اندازے سے معلوم کر کے نماز ادا کی، نماز کے بعد وہاں کام کرنے والے ایک شخص نے بتایا کہ ہمارا قبلہ درست سمت پر نہیں تھا، بلکہ کچھ پہلو کی طرف ہٹ کر تھا۔ پھر اس نے موبائل ایپ سے چیک کیا تو واقعی قبلے کی سمت میں کچھ فرق نظر آیا۔
اب سوال یہ ہے کہ:ہم نے جو نماز اس اندازے والے رخ پر پڑھی تھی، کیا وہ صحیح ہو گئی یا ہمیں اسے دوبارہ ادا کرنا ضروری ہے؟
اس بارے میں شرعی راہنمائی فرمائیں۔
واضح رہے کہ جو لوگ بیت اللہ سے دور ہیں، ان کے لیے نماز میں عین کعبہ کی سمت رخ کرنا لازم نہیں، بلکہ جہتِ کعبہ یعنی کعبہ کی عمومی سمت کی طرف رخ کرنا ضروری ہے، لہٰذا اگر مسجد کی صفیں عین کعبہ سے دائیں یا بائیں جانب تقریباً پینتالیس ڈگری کے اندراندر مڑی ہوئی ہوں تو اس سے نماز پر کوئی اثر نہیں پڑتا، نماز درست ہوجاتی ہے، کیونکہ دور رہنے والوں کے لیے اتنے درجے تک انحراف کی شرعاً گنجائش موجود ہے۔
لہذا پوچھی گئی صورت میں ،جس سمت نماز ادا کی ہے، اگر وہ عین قبلہ سے 45 ڈگری سے زائد منحرف ہو تو اُن نمازوں کا اعادہ کیا جائے گا، لیکن اگر عین قبلہ سے انحراف 45 ڈگری سے کم تھا تو اس صورت میں نماز ادا ہو گئی ہے، اعادہ کی ضرورت نہیں۔
*الدر المختار مع رد المحتار: (429/1، ط: دار الفكر)*
(و) السادس (استقبال القبلة) حقيقة أو حكما كعاجز ، والشرط حصوله لا طلبه (فللمكي) ... (إصابة عينها) ... (ولغيره) أي غير معاينها (إصابة جهتها) بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة أو لهوائها... فتبصر وتعرف بالدليل؛ وهو في القرى والأمصار محاريب الصحابة والتابعين، وفي المفاوز والبحار النجوم كالقطب.
(قوله قلت إلخ): والحاصل أن المراد بالتيامن والتياسر الانتقال عن عين الكعبة إلى جهة اليمين أو اليسار لا الانحراف، لكن وقع في كلامهم ما يدل على أن الانحراف لا يضر؛ ففي القهستاني: ولا بأس بالانحراف انحرافا لا تزول به المقابلة بالكلية، بأن يبقى شيء من سطح الوجه مسامتا للكعبة.
*دررالحكام:(60/1،ط: دار احیاء الکتب العربیة)*
لو انحرف عن العين انحرافا لا يزول به المقابلة بالكلية جاز يؤيده ما قال في الظهيرية إذا تيامن أو تياسر يجوز.
*بدائع الصنائع:(129/1 ،ط: دار الکتب العلمیة)*
لأن قبلته حالة البعد جهة الكعبة وهي المحاريب لا عين الكعبة لما بينا فيما تقدم.