السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ میرے چھ بیٹے اور تین بیٹیاں جن میں سے دو بیٹیاں اور ایک بیٹا انتقال کر چکے ہیں باقی پانچ بیٹوں اور ایک بیٹی کے درمیان جائیداد کو تقسیم کرنا ہے واضح رہے کہ میرا ایک مکان ہے جس کو میں نے دو منزلہ بنایا ہے دوسری منزل میری پوتے نے بنائی ہے اور اس میں اس نے تقریبا 13 لاکھ روپے خرچ کیے ہیں اور ہماری پوری فیملی یہ سمجھتی ہوئی آئی ہے کہ یہ فلور میرے اس پوتے کا ہے اب میری بیٹیوں کی شادیاں ہو چکی ہے اور بیٹے بھی سارے شادی شدہ ہیں اور میں اب اس وقت چار بیٹوں بیٹوں اور دو پوتوں کے ساتھ اس مکان میں رہتا ہوں
براہ کرم مجھے یہ بتا دیجیے کہ میری یہ جائیداد اب میرے اولاد کے درمیان کس طرح سے تقسیم ہوگی؟
واضح رہے کہ والدکا اپنی زندگی میں اپنی جائیداد میں سے اولاد کو کچھ دینا میراث نہیں ہبہ (تحفہ ، گفٹ ) کہلا تا ہے یہ ۔اس لیے اگر آپ اپنی جائیداداپنی اولاد کے درمیان تقسیم کرنا چاہتے ہیں تو وہ ان کے درمیان برابر تقسیم ہوگی لڑکی اور لڑکے اس میں برابر کے حصہ دار ہوں گے ۔
نیز گھر کی جو منزل آپ کے پوتے نے بنائی ہے وہ ان کی ملکیت ہے اس کی تقسیم نہیں ہوگی اور ان کو آپ کے اس مشترکہ جائیداد میں بھی حصہ نہیں ملے گا کیونکہ والد کے ہوتے ہوئے پوتے میراث میں حقدار نہیں ہوتے ۔
الدرالمختار : (5/ 696، ط: دارالفكر)
وفي الخانية لا بأس بتفضيل بعض الأولاد في المحبة لأنها عمل القلب، وكذا في العطايا إن لم يقصد به الإضرار، وإن قصده فسوى بينهم يعطي البنت كالابن عند الثاني وعليه الفتوى ولو وهب في صحته كل المال للولد جاز وأثم.
البحر الرائق : (8/ 557، ط: دارالكتاب الاسلامي )
وأما بيان الوقت الذي يجري فيه الإرث فنقول هذا فصل اختلف المشايخ فيه قال مشايخ العراق الإرث يثبت في آخر جزء من أجزاء حياة المورث وقال مشايخ بلخ الإرث يثبت بعد موت المورث وفائدة هذا الاختلاف إنما تظهر في رجل تزوج بأمة الغير، ثم قال لها إذا مات مولاك فأنت حرة فمات المولى والزوج وارثه هل تعتق؟ فعلى قول من يقول بأن الإرث يجري في آخر جزء من أجزاء حياة المورث تعتق بعد الموت، وذكر هذه المسألة في القدوري وذكر أنها على قول أبي يوسف لا تعتق وعلى قول زفر تعتق.