فدیہ

رمضان سے پہلے روزوں کا فدیہ دینے کا حکم

فتوی نمبر :
1935
عبادات / روزہ و رمضان / فدیہ

رمضان سے پہلے روزوں کا فدیہ دینے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلےکہ ااگر ایک شخص آئندہ بھی روزہ رکھنے پر قادر نہ ہو تو رمضان سے پہلے روزوں کا فدیہ دے سکتا ہے اور کیا رمضان سے پہلے دیا ہوا فدیہ ادا ہو جائے گا یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ اگر کوئی شیخ فانی ہو اور آئندہ بھی روزہ رکھنے کی قوت حاصل ہونے کی کوئی امید نہ ہو تو وہ روزوں کا فدیہ ادا کر سکتا ہے اور یہ فدیہ رمضان کے شروع میں بھی ادا کیا جا سکتا ہے۔

حوالہ جات

الدرالمختار : (2/ 427، ط: دارالفكر)
(وللشيخ ‌الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر .

الهندية: (1/ 207، ط: دارالفكر)
فالشيخ ‌الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارة كذا في الهداية. والعجوز مثله كذا في السراج الوهاج. وهو الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت كذا في البحر الرائق. ثم إن شاء أعطى الفدية في أول رمضان بمرة، وإن شاء أخرها إلى آخره كذا في النهر الفائق .

البحر الرائق : (2/ 308، ط: دارالكتاب الاسلامي )
وفي فتاوى أبي حفص الكبير إن شاء أعطى الفدية ‌في ‌أول ‌رمضان بمرة وإن شاء أعطاها في آخره بمرة .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
27
فتوی نمبر 1935کی تصدیق کریں