کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوا، اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ ان کو میراث میں کتنا حصہ ملے گا ؟
میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کر نےکے بعد باقی مال کے نو(9) حصے کیے جائیں گے ،جس میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) اور بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے گا۔
القرأن الكريم : [النساء:/4 176]
فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ.
السراجي :( ٨ ، ط: قديمي كراتشي )
اما البنات الصلب .... مع الابن مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن .