احکام وراثت

چار بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
1939
معاملات / ترکات / احکام وراثت

چار بیٹوں اور ایک بیٹی میں تقسیم میراث

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص فوت ہوا، اس کے چار بیٹے اور ایک بیٹی ہے۔
پوچھنا یہ ہے کہ ان کو میراث میں کتنا حصہ ملے گا ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

میت کی تجہیز و تکفین قرض کی ادائیگی اور اگر وصیت کی ہو تو ایک تہائی میں وصیت نافذ کر نےکے بعد باقی مال کے نو(9) حصے کیے جائیں گے ،جس میں سے ہر ایک بیٹے کو دو (2) اور بیٹی کو ایک(1) حصہ دیا جائے گا۔

حوالہ جات

القرأن الكريم : [النساء:/4 176]
فَلِلذَّكَرِ مِثۡلُ حَظِّ ٱلۡأُنثَيَيۡنِۗ.

السراجي :( ٨ ، ط: قديمي كراتشي )
اما البنات الصلب .... مع الابن مثل حظ الانثيين وهو يعصبهن .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
24
فتوی نمبر 1939کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --