گھر میں خواتین کا اذان سے پہلے نماز پڑھنے کا حکم

فتوی نمبر :
1941
عبادات / نماز /

گھر میں خواتین کا اذان سے پہلے نماز پڑھنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر نماز کا وقت داخل ہوا ہو اور اب تک اذان نہ ہوئی ہو تو کیا عورتیں گھر میں نماز ادا کر سکتی ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ وقت کا داخل ہونا نماز کی شرائط میں سے ہے ،لہذا وقت داخل ہو جانے کے بعد عورتیں گھر میں اگر نماز پڑھنا چاہے تو اذان سے پہلے بھی ادا کر سکتی ہیں،اس میں کوئی حرج نہیں

حوالہ جات

الدرالمختار : (1/ 395، ط: دارالفكر)
(بخلاف مصل) ولو بجماعة (وفي بيته بمصر) أو قرية لها مسجد؛ ‌فلا ‌يكره ‌تركهما إذ أذان الحي يكفيه .

مجمع الأنهر1/ 75):، ط: دار إحياء التراث العربي)
(وندبا) أي الأذان والإقامة معا (لهما) أي المسافر والمصلي في بيته وإنما قيدنا بقولنا معا لدفع ما يتوهم أن قوله وندبا لهما يخالف لما قبله، وهو قوله: وكره تركهما؛ لأنه لا كراهة في ترك المندوب فليتأمل (لا للنساء) ؛ لأنهما من سنن الجماعة المستحبة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
17
فتوی نمبر 1941کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --