علاج و دواء

مسلمان کے لیے غیر مسلم سے علاج کرانا

فتوی نمبر :
1955
معاشرت زندگی / علاج و معالجہ / علاج و دواء

مسلمان کے لیے غیر مسلم سے علاج کرانا

کسی مسلمان کے لیے ہندو ڈاکٹر سے اپنی کسی بیماری کا علاج کرانا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

کسی مسلمان کے لیے بیماری کا علاج ہندو ڈاکٹر سے کروانے میں کوئی حرج نہیں، لیکن اگر کسی غیر مسلم کا طریقہ علاج کفریہ، شرکیہ امور پر مبنی ہو تو مسلمان کو اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

حوالہ جات

*البحر الرائق شرح:(2/ 303،ط: دار الكتاب الإسلامي)*
وفيه إشارة إلى أن المريض ‌يجوز ‌له ‌أن ‌يستطب ‌بالكافر فيما عدا إبطال العبادة؛

*الشامیة:(2/ 423،ط:دارالفکر)*
وفيه إشارة إلى أن المريض ‌يجوز ‌له ‌أن ‌يستطب ‌بالكافر فيما عدا إبطال العبادة۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
49
فتوی نمبر 1955کی تصدیق کریں