ویزہ کی فیس کی تفصیلات

فتوی نمبر :
2
/ /

ویزہ کی فیس کی تفصیلات

کیا فرماتے ہیں مفتیان کران اس مسئلہ کے بارے میں:
میں نے ایک دوست سے دو ویزا 12 ہزار ریال میں خریدا اس شرط پر کچھ پیسے ابھی دونگا بقایہ سعودیہ پہنچ کر اور اس دوست نے مجھے وہ ویزا دے دیا میں نے7ہزار ریال دیا کسی عذرکی بناءپرمیں نہیں جاسکا ویزے کے مددختم ہونے سے پہلے میں نے وہ ویزہ دیا اور وہ دوست اس ویزے کو لے کر کے چلا گیا۔
اس کے بعد میں نے اس دوست کو کافی تلاش کیا اور کافی بار رابطہ کیا لیکن وہ دست نہیں مل سکا ایک دن عصر کی نماز میں ملاقات ہوئی دونوں نماز سے فارغ ہوئےتو میں مسجد سے باہر نکلا کہ دوست غائب ہوگیا اب 25 سال کے بعد مجھے پتہ چلا کہ وہ ترکی میں ہےاور ایک رشتہِ دارکے واسطے سے اسکا نمبر ملا میں نے رابطہ کرکے اس سے پیسے مانگے تو اس نے کہا میں نے وہ ویزہ عرب کو دیا تھا لیکن وہ عرب مجھے واپس نہیں دیا تھا اب میں پیسہ مانگا رہاہو وہ کہتاہے ویزہ آپ کو ایک بار دےچکاہو اب میرے اوپر آپکا کوئی حق نہیں ۔
آپ شریعت کے مطابق ہمارے درمیان فیصلہ فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگر آپ ویزہ کی مدت ختم ہونے سے پہلے ویزہ واپس کرچکے ہیں تو آپ کے دوست پر لیے گئے 7 ہزار ریال کی رقم واپس کرنا لازم ہے، اگر وہ رقم واپس نہیں کرےگا تو گنہگار ہوگا۔

حوالہ جات

کما فی البخاریؒ:
مطل الغنی ظلم
رقم الحدیث:۲۴۰۰
کما فی البحر الرائق :
"الأصل في الديون أن من أخذ مال غيره وجب عليه رده بعينه أو بمثله إن كان مثليا،
أو بقيمته إن كان قيميا."
ابن نجیم: ج ۶،ص ۲۱۹،م بیروت
کما فی الھندیۃ:
"إذا انفسخ البيع يجب ردّ كلّ من العوضين إلى صاحبه، فإن تعذر ردّ أحدهما وجب الضمان بمثله أو بقيمته.
شیخ نظام الدین وجماعتہ: ج۴،ص۱۰۴،م دارالفکر بیروت لبنان

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
2025-04-23
149
فتوی نمبر 2کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155