نفل نماز میں متعدد نمازوں کی نیت کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2023
عبادات / نماز /

نفل نماز میں متعدد نمازوں کی نیت کرنے کا حکم

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ کیا نفل نماز میں ایک سے زیادہ نیت کی جا سکتی ہے یا نہیں؟ مثلا آیک آدمی تہجد پڑھتا ہے تو وہ اس میں صلاۃ الحاجت اور صلوۃ توبہ کی نیت کر سکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ نفل کی نماز میں متعدد نمازوں کی نیت کرنا درست ہے ،مثلا صلاۃ الحاجت، صلاۃ توبہ ،تحیۃ المسجد ،تحیۃ الوضو وغیرہ ۔

حوالہ جات

الشامية : (1/ 440، ط: دارالفكر)
ويمكن تصويره فيما لو نوى ‌سنة ‌العشاء ‌والتهجد بناء على ما رجحه ابن الهمام من أن التهجد في حقنا سنة لا مستحب .

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح: (ص216، ط: دار الكتب العلمية )
وكذا يصح ‌لو ‌نوى ‌نافلتين ‌أو ‌أكثر كما لو نوى تحية مسجد وسنة وضوء وضحى وكسوف والمعتمد أن العبادات ذات الأفعال يكتفي بالنية في أولها ولا يحتاج إليها في كل جزء إكتفاء بإنسحابها .

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
31
فتوی نمبر 2023کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --