کرائے کی مد میں ملنے والی رقم کسی دوسرے استعمال میں لانا

فتوی نمبر :
207
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

کرائے کی مد میں ملنے والی رقم کسی دوسرے استعمال میں لانا

مفتیان اکرام اپ اس مسئلہ کے بارے میں کیا کہتے ہیں ایک شخص دوکاندار کے ساتھ کام سیکھ رہاہےتو دوکاندار اس کو کرایہ کیلۓ 50روپے دیتا ہے حالانکہ اسکا کرایہ 20یا30 روپے ہیں اب کرایہ کے علاوہ جو 20 یا30 روپے رہ جاتے ہیں یہ شخص اسکو استعمال کرسکتا ہے یا نھی اور دوسری بات اگر روزانہ اس شخص کو50 روپے ملتے ہیں اوریہ شخص کبھی کبھاربغیر کرایہ والے گاڑی میں جا تا ہےتو ایا یہ 50 روپے خود استعمال کرسکتا ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

بیان کی گئی صورت میں ملازم کو دکاندار کی طرف سے کرائے کی مد میں ملنے والی رقم اس (ملازم) کی ملکیت ہے، وہ جس طرح چاہے استعمال کر سکتا ہے۔

حوالہ جات

سنن ابی داؤد:(446/5، الرقم:3594ط:دارالرسالةالعلمية)

"وقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «‌المسلمون ‌على ‌شروطهم»."

مجلۃ الأحکام العدلیۃ:(230،المادۃ:1192،ط:نور محمد)
"كل ‌يتصرف ‌في ‌ملكه كيفما شاء. لكن إذا تعلق حق الغير به فيمنع المالك من تصرفه على وجه الاستقلال."

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
138
فتوی نمبر 207کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --