خرید و فروخت

ادھار کی صورت میں مدت متعین کرنا

فتوی نمبر :
2164
معاملات / مالی معاوضات / خرید و فروخت

ادھار کی صورت میں مدت متعین کرنا

میری ہول سیل کی دکان ہے،جس میں ہر طرح کے پائپ کی خرید و فروخت ہوتی ہے،پلمبر کو جس چیز کی ضرورت ہوتی ہے وہ اٹھا کر لے جاتا ہےادھار پر، مدت کی تعین کے بغیر،کیا ہمارا اس طرح اشیاء فروخت کرنا درست ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے ہر نیا سودا کرتے وقت مدت متعین کرنا ضروری ہے، لہذا آپ کا اس طرح فروخت کرنا درست نہیں۔

حوالہ جات

کما فی القرآن الکریم:
یا ایھا الذین آمنوا اذا تداینتم بدین الی اجل مسمی فااکتبوہ
البقرہ:282
کما فی الشامی:
ولزم تاجیل کل دین ان قبل المدیون قولہ و لزم تاجیل کل دین الدین ما وجب فی ذمۃبعقد او استھلاک
ابن عابدین،محمد امین:ج5،ص156،م سعید
کما فی البحر الرائق:
(وتاجیل کل دین الاالقرض) ای صح لان الدین حقہ فلہ ان یوخذۃ
ابن نجیم،محمد بن حسین:ج6،ص202،م رشیدیہ

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
22
فتوی نمبر 2164کی تصدیق کریں