پرورش و تربیت

طلاق کے بعد اولاد کی پرورش کا حق کس کو ہے

فتوی نمبر :
2167
معاشرت زندگی / اولاد کے مسائل و احکام / پرورش و تربیت

طلاق کے بعد اولاد کی پرورش کا حق کس کو ہے


کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں ۔میرے تین بچے ہیں ،2لڑکےاور 1لڑکی، میرے شوہر نے مجھے طلاق دے دی ہےاور بچے اپنے پاس رکھے ہوئے ہیں ۔قرآن و سنت کی روشنی میں یہ بتا دیں کہ طلاق کے بعد بچوں کی پرورش کا حق دار کون ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے شریعت مطہرہ نے بچوں کی پرورش کی پہلی حق دار ماں کو ٹھہرایا ہے، لڑکے کی پرورش سات سال تک یا خود کھانے پینے اور کپڑے بدلنے کے قابل ہونے تک ماں کے پاس رہتی ہے اور لڑکی کی پر ورش بالغ ہو نے تک ماں کے پاس ہوتی ہے ،لیکن اگر ماں نے دوسری جگہ شادی کرلی تو پھر بچوں کی پر ورش کا حق دار باپ ہو گا ۔

حوالہ جات

کما فی سنن ابی داود:
عن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنه قال:ان امراة قالت يا رسول اللهﷺان ابني هذا كان بطني له وعاء وثديي له سقاء وحجري له حواء وان اباه طلقني واراد ان ينتزعه مني فقال لها رسول اللهﷺ انت احق به مالم تنكحي
الامام ابو داود،سليمان بن الاشعث:ج١،ص٣٢٩،م رحمانيه
كما في الفتاوي الهنديه:
"والام والجدة احق بالغلام،حتي يستعني،وقدر بسبع سنين.وقال القدوري:حتي ياكل وحده،ويشرب وحده،ويستنجي وحده،وقدر ابو بكر الرازي بتسع سنين،والفتوي علي الاول.والام والجدةاحق بالجارية حتي تحيض.وفي نوادر هشام عن محمد رحمةالله تعالي اذا بلغت حد الشهوة-الاب احق
الشيخ نظام و جماعته:ج١،ص٥٤٢،م رشيديه
فتاوی محمودیہ میں ہے۔
جب تک مطلقہ کسی اجنبی شخص سے نکاح نہ کر ے خود بچوں کی والدہ کو حق پرورش ہو گا۔شوہر کے لئے جائز نہیں کہ بچوں کو والدہ سے علیحدہ کرے، یہاں تک کہ لڑکا خود کھانے،پینے،استنجا،کرنے لگے،اپنی ان چیزوں میں کسی کا محتاج نہ ہواور عام طور پر بچہ سات(7) سال کی عمر میں اس قابل ہو جاتا ہےاور لڑکی کو والدہ سے اس وقت تک جدا کرنا درست نہیں کہ لڑکی کو شہوت ہو نے لگے اور اس کا اندازہ نو(9) سال کی عمر ہے،اس کے بعد اپنی اولاد کو والدہ سے علیحدہ کرنا شرعا درست ہے۔
محمود حسن گنگوہی:ج13،ص567،م جامعہ فاروقیہ کراچی

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
9
فتوی نمبر 2167کی تصدیق کریں