کیا فرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ہم کسی جگہ شادی میں جائیں اور شادی ھال میں ہو ،وہاں گانے بج رہے ہوں،وہاں کھانا کھانا کیسا ہے؟ کھایا جائے یا چھوڑ کے واپس آجائیں؟
واضح رہے اگر مدعو شخص کو پہلے سے ہی معلوم ہو کہ یہ سب خرافات ہونگی تو اس صورت میں نہ جائے ،البتہ اگر مدعو شخص عالم اور مبتدا ہو اور اسے امیدہو کہ وہ اس مجلس میں جا کر معصیت کے ارتکاب کو روک سکتا ہے تو اسے جانا چاہیے ،تاکہ دوسرے لوگ بھی گناہوں سے بچ جائیں،اگر پہلے سے معلوم نہ ہو ،بلکہ اندر جا کر معلوم ہوا تو اندر نہ جائے،البتہ اگر عالم نہ ہو تو وہاں بیٹھ کر کھانا کھانے کی گنجائش ہے۔
کما فی مشکاۃ المصابیح:
عن جابررضی اللہ عنہ قال: قال رسول اللہﷺ '' الغناء ینبت النفاق فی القلب کما ینبت الماء الزرع''
التبریزی،محمد بن عبداللہ:ج1،ص411،م قدیمی
کما فی رد المختار:
"وکرہ کل لھو"والاطلاق شامل لنفس الفعل واستماعہ،کالرقص والسخریۃ والتصفیق------فانھا کلھا مکروھۃ،لانھا زی الکفار
ابن عابدین، محمد امین:ج6،ص395،م ایچ ایم سعید
کما فی فتاوی الھندیہ:
من دعی الی ولیمۃ،فوجد ثمۃ لعباً او غناءً---اذا کان(مقتدی بہ)ولم یقدر علی منعم،فانہ یخرج ولا یقعد۔ولو کان ذلک علی المائدۃ،لا ینبغی ان یقعد وان لم یکن مقتدی بہ،وھذا کلہ بعد الحضور،واما اذا علم قبل الحضور، فلا یحضر
الشیخ نظام و جماعتہ:ج5،ص343،م رشیدیہ کوئٹہ