نوجوان عورتوں کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا

فتوی نمبر :
2196
حظر و اباحت / جائز و ناجائز /

نوجوان عورتوں کو سلام کرنا یا سلام کا جواب دینا

اَلسَلامُ عَلَيْكُم وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ
کیا فرماتے ہیں مفتیان اکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ نوجوان عورتیں نوجوان مرد کو سلام کریں اور نوجوان مرد سلام کا جواب بھی دے یا نوجوان مرد نوجوان عورتوں پر سلام کرے اور نوجوان عورتیں سلام کا جواب بھی دیں، آیا اس طرح شریعت میں جائز ہے یا نہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کسی نامحرم مرد و عورت کا بلا ضرورت آپس میں گفتگو کرنا، فون یا دیگر ذرائع سے بے تکلف رابطہ رکھنا شرعاً ناجائز، گناہ ہے، البتہ شدید ضرورت کے وقت صرف بقدرِ ضرورت اور سنجیدگی کے ساتھ بات کرنے کی اجازت ہے۔
اسی طرح نامحرم خواتین سے ہاتھ ملانا حرام ہے، اس کی صریح ممانعت احادیث میں موجود ہے، رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نامحرم عورت کو چھونے پر سخت وعید ارشاد فرمائی ہے، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا:’’کسی شخص کے سر میں لوہے کی سوئی چبھو دی جائے، یہ اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی نامحرم عورت کو چھوئے۔‘‘ (طبرانی۔حدیث نمبر:486)

حوالہ جات

*القرآن الکریم:(الاحزاب 33: 32)*
يَا نِسَاءَ النَّبِيِّ لَسْتُنَّ كَأَحَدٍ مِّنَ النِّسَاءِ إِنِ اتَّقَيْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ وَقُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوفًا.

*المعجم الكبير للطبراني:(211/20،رقم الحدیث:486،ط:مكتبة ابن تيمية)*
حدثنا موسى بن هارون، ثنا إسحاق بن راهويه، أنا النضر بن شميل، ثنا شداد بن سعيد الراسبي، قال: سمعت يزيد بن عبد الله بن الشخير يقول: سمعت معقل بن يسار يقول: قال رسول الله ﷺ: «لأن يطعن في رأس أحدكم بمخيط من حديد خير له من أن يمس امرأة لا تحل له».

*صحيح البخاري:(150/6،رقم الحديث:4891،ط:دار طوق النجاة)*
حدثنا إسحاق، حدثنا يعقوب بن إبراهيم ، حدثنا ابن أخي ابن شهاب، عن عمه: أخبرني عروة: أن عائشة رضي الله عنها زوج النبي ﷺ أخبرته: أن رسول الله ﷺ «كان يمتحن من هاجر إليه من المؤمنات بهذه الآية بقول الله: ﴿يا أيها النبي إذا جاءك المؤمنات يبايعنك﴾ إلى قوله: ﴿غفور رحيم﴾ قال عروة: قالت عائشة: فمن أقر بهذا الشرط من المؤمنات، قال لها رسول الله ﷺ: قد بايعتك، كلاما، ولا والله ما مست يده يد امرأة قط في المبايعة، ما يبايعهن إلا بقوله: قد بايعتك على ذلك»..

*حاشیة الطحطاوی:(242/1، ط: دارالکتب العلمية)*
أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها لأن ذلك ليس بصحيح فإنا نجيز الكلام من النساء الأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهن ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
5
فتوی نمبر 2196کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --