السلام علیکم مفتی صاحب !
سعودی حکومت نے حج اور عمرہ ادا کرنے والوں کے لیے پانچ لیٹر زمزم کا پانی لے جانے کی اجازت دی ہے اگر کوئی شخص پانچ لیٹر سے زیادہ پانی لائے تو شرعا کیسا ہے ؟
واضح رہے کہ اگر حکومت نے کسی معقول عذر کی بنا پر پانچ لیٹر پانی کی حد مقرر کی ہے تو حکومت کی بات ماننا شرعا لازم ہے، لہذا پوچھی گئی صورت میں پانچ لیٹر سے زیادہ لانا مناسب نہیں ،البتہ اگر کوئی لائے تو اس کا پینا جائز ہے۔
القرأن الكريم : [النساء: 59]
يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ .
فتح الباري لابن حجر: (13/ 123 ،ط: المكتبة السلفية )
أن طاعة الأمير واجبة، ومن ترك الواجب دخل النار.
الشامية : (5/ 422، ط: دارالفكر)
(قوله: أمر السلطان إنما ينفذ) أي يتبع ولا تجوز مخالفته وسيأتي قبيل الشهادات عند قوله أمرك قاض بقطع أو رجم إلخ التعليل بوجوب طاعة ولي الأمر وفي ط عن الحموي أن صاحب البحر ذكر ناقلا عن أئمتنا أن طاعة الإمام في غير معصية واجبة فلو أمر بصوم وجب اهـ وقدمنا أن السلطان لو حكم بين الخصمين ينفذ في الأصح وبه يفتى.