زندگی میں اپنی قبر کے لیے جگہ متعین کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
2262
عقائد / /

زندگی میں اپنی قبر کے لیے جگہ متعین کرنے کا حکم

السلام علیکم مفتی صاحب
کسی شخص کا موت سے پہلے اپنی زندگی میں ہی اپنی قبر کی جگہ متعین کرنا کیسا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ زندگی میں عبرت حاصل کرنے کے لیے یا موت کو یاد رکھنے کے لیے اپنے لیے قبر کی جگہ متعین کرنا یا قبر تیار کروانا جائز ہے

حوالہ جات

القرأن الكريم : [لقمان:/31 34]
وَمَا تَدۡرِي نَفۡسُۢ بِأَيِّ أَرۡضٖ تَمُوتُۚ.

الدرالمختار : (2/ 244، ط: دارالفكر)
ويحفر ‌قبرا ‌لنفسه، وقيل يكره؛ والذي ينبغي أن لا يكره تهيئة نحو الكفن بخلاف القبر.

حاشية الطحطاوي على مراقي الفلاح : (ص615، ط:دارالكتب العلمية )
ومن حفر قبرا ‌قبل ‌موته ‌فلا بأس به ويؤجر عليه هكذا عمل عمر بن عبد العزيز والربيع بن خثعم وغيرهم "ولا يخرج منه".

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
4
فتوی نمبر 2262کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --
  • 155