روزے کا کفارہ

روزوں کا فدیہ ادا کرنے کا وقت

فتوی نمبر :
2367
عقوبات / کفارات / روزے کا کفارہ

روزوں کا فدیہ ادا کرنے کا وقت

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ !
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ اگر کوئی شخص روزے کا فدیہ ادا کرنا چاہے تو کب دےگا ؟
جب روزے مکمل ہو جائیں یا پہلے سے بھی ادا کرسکتا ہے اور وہ کس ریٹ کے حساب سے دے گا؟
کیونکہ ریٹ کم زیادہ ہوتے ہیں یعنی اگر آج فدیہ نکالنا چاہے پورے رمضان کا تو آج جو ریٹ ہوگا اس کے حساب سے فدیہ دے گا ؟اس لئے کہ ہوسکتا ہے کہ آئندہ چند دنوں میں ریٹ زیادہ اور کم ہو جائے اس کا اعتبار ہوگا یا نہیں؟
تھوڑی تفصیل سے وضاحت فرمائیں۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ فدیہ اس وقت دیا جائے گا، جب یہ شخص اتنا بیمار ہو جائے کہ آئندہ صحت یاب ہونے کی امید نہ ہو، یا انتقال ہو جائے۔
اگر بیمار ایسا ہو کہ اس کی صحت یابی کی امید نہ ہو تو فدیہ رمضان المبارک میں ادا کرنا بہتر ہے، اگر رمضان میں ادا نہ کیا تو بعد میں بھی دیا جاسکتا ہے۔
ایک روزے اور ایک نماز کا فدیہ ایک صدقہ فطر کے برابر ہے،صدقہ فطر کی مقدار پونے دو کلو گندم یا اس کی مروجہ قیمت ہے۔ فدیہ میں ادائیگی کے وقت کا اعتبار ہوگا یعنی جس وقت فدیہ دیا جارہا ہے، اس وقت کے پونے دو کلو گندم کی قیمت کے حساب سے فدیہ ادا کیا جائے گا۔

حوالہ جات

*الهندية:(207/1،ط: دار الفكر)*
(ومنها: كبر السن) فالشيخ الفاني الذي لا يقدر على الصيام يفطر ويطعم لكل يوم مسكينا كما يطعم في الكفارة كذا في الهداية والعجوز مثله كذا في السراج الوهاج وهو الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت كذا في البحر الرائق ثم إن شاء أعطى الفدية في أول رمضان بمرة وإن شاء أخرها إلى آخره كذا في النهر الفائق.
ولو قدر على الصيام بعد ما فدى بطل حكم الفداء الذي فداه حتى يجب عليه الصوم هكذا في النهاية.

*الدرالمختار:(150/1،ط: دار الفكر )*
وللشيخ الفاني العاجز عن الصوم الفطر ويفدي) وجوبا ولو في أول الشهر وبلا تعدد فقير كالفطرة لو موسرا وإلا فيستغفر الله.

*حاشیة ابن عابدين:(427/1،ط دار الفكر )*
(قوله وللشيخ الفاني) أي الذي فنيت قوته أو أشرف على الفناء، ولذا عرفوه بأنه الذي كل يوم في نقص إلى أن يموت نهر، ومثله ما في القهستاني عن الكرماني: المريض إذا تحقق اليأس من الصحة فعليه الفدية لكل يوم من المرض اهـ وكذا ما في البحر لو نذر صوم الأبد فضعف عن الصوم لاشتغاله بالمعيشة له أن يطعم ويفطر لأنه استيقن أنه لا يقدر على القضاء (قوله العاجز عن الصوم) أي عجزا مستمرا كما يأتي، أما لو لم يقدر عليه لشدة الحر كان له أن يفطر ويقضيه في الشتاء فتح (قوله ويفدي وجوبا) لأن عذره ليس بعرضي للزوال حتى يصير إلى القضاء فوجبت الفدية نهر، ثم عبارة الكنز وهو يفدي إشارة إلى أنه ليس على غيره الفداء لأن نحو المرض والسفر في عرضة الزوال فيجب القضاء وعند العجز بالموت تجب الوصية بالفدية.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
9
فتوی نمبر 2367کی تصدیق کریں