السلام علیکم !
ایک مسئلہ ہے کہ ایک شخص نے ماں باپ کے سامنے قرآن پر ہاتھ رکھ کر کہا کہ میں اس کے بعد نشہ نہیں کروں گا، پھر اس کے کچھ عرصے بعد وہ دوستوں کی مجلس میں بیٹھ گیا اور دوبارہ نشہ کرنا شروع کیا، اب اس کا کیا حکم ہے ؟
وضاحت فرمائیں۔
واضح رہے کہ اسلام نے ہر اس چیز کو سختی سے منع کیا ہے،جو عقل کو زائل کرنے والی ہو اور نشہ پیدا کرتی ہو، ہر نشہ آور چیز حرام ہے، خواہ وہ شراب ہو یا کوئی اور نشہ آور چیز، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”ہرنشہ آور چیز شراب ہے اور ہر نشہ آور چیز حرام ہے، چرس بھی اسی حکم میں شامل ہے۔
اگر کسی نے صرف قرآن مجید پر ہاتھ رکھ کر یہ کہا کہ ”میں یہ کام نہیں کروں گا“ مگر قسم کے الفاظ زبان سے ادا نہیں کیے تو اس صورت میں شرعاً قسم منعقد نہیں ہوگی اور اس صورت میں کفارہ بھی لازم نہیں۔
لہٰذا پوچھی گئی صورت میں اگر قسم کے الفاظ زبان سے ادا نہیں کیے تو اس صورت میں یہ قسم نہیں، بلکہ یہ ایک وعدہ ہے ،اس لیے دوبارہ چرس پینے کی صورت میں کوئی کفارہ تو لازم نہیں، لیکن چرس پینے کے گناہ کے ساتھ وعدہ خلافی کا گناہ بھی ملے گا۔
*القرآن الکریم:( الاسراء:34/17)*
وَأَوْفُوْا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْـُٔولًا .
*صحيح مسلم:99/6،رقم الحديث:(70-(1733)،ط:دار طوق النجاة)*
وحدثنا قتيبة بن سعيد، وإسحاق بن إبراهيم ، (واللفظ لقتيبة)، قالا: حدثنا وكيع ، عن شعبة ، عن سعيد بن أبي بردة ، عن أبيه ، عن أبي موسى قال: «بعثني النبي ﷺ أنا ومعاذ بن جبل إلى اليمن، فقلت: يا رسول الله، إن شرابا يصنع بأرضنا يقال له: المزر من الشعير، وشراب يقال له: البتع من العسل؟ فقال: كل مسكر حرام .»
*الشامية:(457/6،ط: دارالفكر)*
قوله ويحرم أكل البنج) هو بالفتح: نبات يسمى في العربية شيكران، يصدع ويسبت ويخلط العقل كما في التذكرة للشيخ داود. وزاد في القاموس: وأخبثه الأحمر ثم الأسود وأسلمه الأبيض، وفيه: السبت يوم الأسبوع، والرجل الكثير النوم، والمسبت: الذي لا يتحرك. وفي القهستاني: هو أحد نوعي شجر القنب، حرام لأنه يزيل العقل، وعليه الفتوى، بخلاف نوع آخر منه فإنه مباح كالأفيون لأنه وإن اختل العقل به لا يزول، وعليه يحمل ما في الهداية وغيرها من إباحة البنج كما في شرح اللباب اهـ.