معاملات / احکام طلاق / رجوع طلاق

دو بار "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں"کہنے کی صورت میں طلاق کا حکم

فتوی نمبر : 2536 0000-00-00 17 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

میرا نام فیصل ہے، میری زوجہ کا نام حمیرہ الماس ہے۔ حضرت مفتی صاحب ! گزشتہ جمعرات میں نائٹ ڈیوٹی کیلئے جانے کے لیے تیار ہو رہا تھا، میری بیوی نے مجھے پانی کا پائپ لگانے کا کہا، دیر ہونے کی وجہ سے میں نے انکار کر دیا، اس کے بعد جھگڑا ہو گیا اور شدید نوعیت کا بن گیا، میں نے غصے میں اپنی بیوی کو دو بار یہ جملے کہے، میں آپ کو طلاق دیتا ہوں،میں آپ کو طلاق دیتا ہوں، تیسری بار میں کہنے والا تھا کہ میری بہن نے مجھے دھکا دے کر گھر سے نکال دیا، اس کے بعد گھر میں آنے کے بعد بھی جھگڑا ہوا ، پھر رشتے دار اور محلہ والے جمع ہو گئے، ایک دوست نے کہا کہ طلاق واقع ہو چکی ہے، پھر اس مسئلے کے بعد میری بیوی سے بات ہوئی اور جھگڑا ختم ہو گیا، ہمارے 2 بچے ہیں، ایک 14 سال کا بیٹا ہے اور ایک 9 سال کی بیٹی، ہمارے لئے شریعت مطہرہ میں کیا حکم ہیں؟ جزاک اللہ

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں دو بار "میں آپ کو طلاق دیتا ہوں"کہنے کی وجہ سے دو طلاقیں رجعی واقع ہوگئی ہیں اور طلاق رجعی واقع ہونے کی صورت میں شوہر کو عدت کے اندر رجوع کرنے کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ رجوع کا طریقہ یہ ہے کہ شوہر عدت (یعنی تین حیض) مکمل ہونے سے پہلے بیوی سے یہ کہے: "میں رجوع کرتا ہوں"، یا بیوی کو شہوت کے ساتھ چھو لے، بوسہ دے، گلے لگائے، شرمگاہ کے اندرونی حصے کو دیکھ لے یا ہمبستری کر لے تو وہ عورت بدستور اس کی بیوی ہی رہے گی ، اگر عدت کے دوران رجوع نہیں کیا تو عدت کے بعد نکاح ختم ہو جائے گا ، پھر دوبارہ ساتھ رہنے کے لیے نئے مہر اور شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے ایجاب و قبول کے ساتھ تجدید نکاح کرنا ضروری ہوگا، دونوں صورتوں میں اب شوہر کے پاس آئندہ صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا ۔

*احکام القران للجصاص:(471/1،ط:دارالکتب العلمیة)* وفي قوله تعالى: ﴿فإمساك بمعروف﴾ دلالة على وقوع الرجعة بالجماع; لأن الإمساك عن النكاح إنما هو الجماع وتوابعه من اللمس والقبلة ونحوها. والدليل عليه أن من يحرم عليه جماعها تحريما مؤبدا لا يصح له عقد النكاح عليها، فدل ذلك على أن الإمساك على النكاح مختص بالجماع، فيكون بالجماع ممسكا لها، وكذلك اللمس والقبلة للشهوة والنظر إلى الفرج بشهوة; إذ كانت صحة عقد النكاح مختصة باستباحة هذه الأشياء، فمتى فعل شيئا من ذلك كان ممسكا لها بعموم قوله تعالی. *البخاری:(رقم الحدیث5251،ط:دارطوق النجاۃ)* حدثنا إسماعيل بن عبد الله قال: حدثني مالك، عن نافع، عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، «أنه طلق امرأته وهي حائض على عهد رسول الله ﷺ، فسأل عمر بن الخطاب رسول الله ﷺ عن ذلك، فقال رسول الله ﷺ: مره فليراجعها، ثم ليمسكها حتى تطهر، ثم تحيض، ثم تطهر، ثم إن شاء أمسك بعد، وإن شاء طلق قبل أن يمس، فتلك العدة التي أمر الله أن تطلق لها النساء. *الهندية:(1/ 470،ط:دارالفکر)* وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض كذا في الهداية. *أيضا:(572/1،ط:دارالفکر)* إذا كان الطلاق بائنا دون الثلاث فله أن يتزوجها في العدة وبعد انقضائها.
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)