احکام وراثت

7 بیٹوں، ایک بیٹی اور ایک بیوہ میں تقسیم میراث

فتوی نمبر :
254
معاملات / ترکات / احکام وراثت

7 بیٹوں، ایک بیٹی اور ایک بیوہ میں تقسیم میراث

السلام علیکم ورحمۃاللہ وبرکاتہ
مفتی صاحب! ایک کروڑ ستر لاکھ کے اثاثے ورثا میں کس طرح تقسیم ہوں گے؟ورثا میں 7 بھائی ایک بہن اور میت کی ماں شامل ہیں ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز وتکفین، قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی سے وصیت نافذ کرنے کے بعد، بچ جانے والی رقم کے کل ایک سو بیس (120) حصے کیے جائیں گے، جن میں سے مرحوم کی بیوہ کو 15, مرحوم کے ہر بیٹے کو چودہ( 14) اور مرحوم کی بیٹی کو سات (7) حصے ملیں گے ۔
اس تقسیم کی رو سے ایک کروڑ ستر لاکھ روپے ( 17,000,000 ) میں سے مرحوم کی بیوہ کو اکیس لاکھ پچیس ہزار روپے (2,125,000) اور ہر بیٹے کو انیس لاکھ تریاسی ہزار تین سو تینتیس روپے (1,983,333) اور بیٹی کو نو لاکھ اکیانوے ہزار چھ سو چھیاسٹھ روپے (991,666) ملیں گے ۔

حوالہ جات

القرآن الکریم:(6:12،النساء)
وَ لَهُنَّ الرُّبُعُ مِمَّا تَرَكْتُمْ اِنْ لَّمْ یَكُنْ لَّكُمْ وَلَدٌۚ.فان کان لکم ولد فلھن الثمن مِمَّا تَرَكْتُمْ من بعد وصیة.

الھندية :(6/ 451،ط:دارالفکر)
فأقرب العصبات الابن ثم ابن الابن وإن سفل ثم الأب ثم الجد أب الأب وإن علا، ثم الأخ لأب وأم، ثم الأخ لأب ثم ابن الأخ لأب وأم.

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
0000-00-00
122
فتوی نمبر 254کی تصدیق کریں
-- متعلقه فتاوی --
...
-- متعلقه موضوعات --