مفتی صاحب! ہمارے والد کا ایک مکان ہے، جس کی مالیت 20 لاکھ روپے ہے، ورثاء میں دو بیٹے اور دو بیٹیاں ہیں، جبکہ والدین کا پہلے انتقال ہوچکا ہے، دریافت طلب امر یہ ہے کہ شرعی طور پر اس ترکہ میں دونوں بہنوں اور دونوں بھائیوں کا کتنا کتنا حصہ ہوگا؟
پوچھی گئی صورت میں میت کی تجہیز و تکفین، میت کے قرض کی ادائیگی اور کل مال کے ایک تہائی (اگر وصیت کی ہو) میں وصیت نافذ کرنے کے بعد بقیہ مال کو چھ حصوں میں تقسیم کیا جائے گا، جس میں سے ہر بیٹے کو دو حصے اور ہر ایک بیٹی کو ایک حصہ دیا جائے گا ، اس تقسیم کی رو سے بیس لاکھ روپے میں سے ہر بیٹے کو چھ لاکھ، چھیاسٹھ ہزار، چھ سو، چھیاسٹھ روپے اور سڑسٹھ پیسے(666666.67)روپے، اور ہر بیٹی کو تین لاکھ، تینتیس ہزار، تین سو، تینتیس روپے اور تینتیس پیسے (333333.33) دیے جائیں گے ۔
*القران الکریم:(4/ 11)* لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الأُنثَيَيْنِ *الھندیة:(449/6،ط:دارالفکر)* وإذا اختلط البنون والبنات عصب البنون البنات فيكون للابن مثل حظ الأنثيين، كذا في التبيين. *فتح القدير للكمال ابن همام:(415/10:دار الفكر)* (قوله ولا تجوز بما زاد على الثلث لقوله عليه الصلاة والسلام في حديث سعد بن أبي وقاص رضي الله عنه «الثلث والثلث كثير» بعدما نفى وصيته بالكل والنصف) قال بعض المتأخرين: يعني أن هذا الحديث دل على عدم جواز الوصية بما زاد على الثلث صراحة، وقوله عليه الصلاة والسلام «إن الله تعالى تصدق عليكم بثلث أموالكم» إلخ وإن دل عليه أيضا لأنه دل على جواز الوصية بالثلث على خلاف القياس فبقي ما فوقه بالكل والنصف، ولأنه حق الورثة، وهذا لأنه انعقد سبب الزوال إليهم وهو استغناؤه عن المال فأوجب تعلق حقهم به، إلا أن الشرع لم يظهره في حق الأجانب بقدر الثلث ليتدارك مصيره على ما بيناه.