السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ مفتیان کرام! کیا حال ہے خیر خیریت ہے ؟مسئلہ پوچھنا تھا میڈیکل کے حوالے سے ، میڈیکل میں بعض دوائیاں لوکل ہوتی ہیں، وہ صرف ڈاکٹر ہی چلاتا ہے، جو لوکل ٹیبلٹ ہے 220 کا ڈبہ ہے، اگر وہ ٹیبلیٹ میرا میڈیکل والا 300 کا ڈبہ دے دے یعنی 300 کا جو ڈبہ ہوتا ہے اس میں گولیاں 10 ہوتی ہیں ، ابھی 300 کو 10 گولیوں پر ڈیوائڈ کریں تو ایسی صورت جائز ہے ؟ یعنی اپنے اصلی ریٹ جو کہ 220 ہے، اس سے بڑھا کر وہی ڈبہ 300 کا بیچ دیں ۔ کیا یہ صورت جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت کر دیجیے۔
حکومت کے جائز اور عوامی مفاد پر مبنی قوانین کی پابندی شرعاً ضروری ہے، لہٰذا ایسی کمپنی کی دوائیں فروخت کرنا مناسب نہیں جس کے پاس حکومتی لائسنس نہ ہو یا جو قانونی تقاضے پورے نہ کرتی ہو،تاہم اگر دوائی میں حرام اجزا کی ملاوٹ نہ ہو تو اس سے حاصل ہونے والی آمدنی حرام نہیں ہے، ڈاکٹر کو بھی چاہیے کہ وہ ایسی دوائی لکھے جو لوکل کمپنی کی نہ ہو۔ جب کوئی شخص کسی چیز کو خرید کر اس کا مالک بن جائے تو اسے شرعاً اختیار حاصل ہوتا ہے کہ وہ اسے اپنی مرضی کے مطابق کم یا زیادہ قیمت پر فروخت کرے، تاہم مناسب یہ ہے کہ بازاری قمیت پر اشیا کا لین دین ہو۔ لہٰذا پوچھی گئی صورت میں لوکل دوائی کو اصل قیمت سے زیادہ قیمت پر فروخت کرنا شرعاً جائز ہے، البتہ مناسب نفع کو اختیار کرنا بہتر اور پسندیدہ عمل ہے۔
*بدائع الصنائع:(264/6،ط:دار الكتب العلمية)* للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء سواء كان تصرفا يتعدى ضرره إلى غيره أو لا يتعدى فله أن يبني في ملكه مرحاضا أو حماما أو رحى أو تنورا وله أن يقعد في بنائه حدادا أو قصارا وله أن يحفر في ملكه بئرا أو بالوعة أو ديماسا وإن كان يهن من ذلك البناء ويتأذى به جاره. *الشامية:(399/6،ط: دارالفكر)* (قوله ولا يسعر حاكم) أي يكره ذلك كما في الملتقى وغيره (قوله «لا تسعروا») قال شيخ مشايخنا العلامة إسماعيل الجراحي في الأحاديث المشتهرة: قال النجم هذا اللفظ لم يرد لكن رواه أحمد والبزار وأبو يعلى في مسانيدهم وأبو داود والترمذي وصححه وابن ماجه في سننه عن أنس - رضي الله تعالى عنه - قال «قال الناس: يا رسول الله غلا السعر فسعر لنا فقال: إن الله هو المسعر القابض الباسط الرازق وإني لأرجو أن ألقى الله وليس أحد منكم يطالبني بمظلمة في دم ولا مال» وإسناده على شرط مسلم وصححه ابن حبان والترمذي. *بحوث في قضايا فقهية معاصرة:(13/1،ط:دار القلم)* وللبائع أن يبيع بضاعته بما شاء من ثمن، ولا يجب عليه أن يبيعها بسعر السوق دائما، وللتجار ملاحظ مختلفة في تعيين الأثمان وتقديرها فربما تختلف أثمان البضاعة الواحدة باختلاف الأحوال، ولا يمنع الشرع من أن يبيع المرء سلعته بثمن في حالة، وبثمن آخر في حالة أخرى.