مفتی صاحب! ہم نے سنا ہے کہ جو شخص جمعہ کی رات یا دن میں فوت ہو جائے تو اسے عذاب قبر نہیں ہوتا تو اگر جمعہ کی رات یا دن میں کوئی فاسق فاجر مر جائے تو اسے بھی عذاب قبر نہیں ہوگا
واضح رہے کہ جمعہ کے دن اور رات کو اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت اور برکت عطا فرمائی ہے، بعض احادیث میں آتا ہے کہ جس مسلمان کا جمعہ کے دن یا جمعہ کی رات انتقال ہو جائے، وہ قبر کے فتنے، آزمائش اور حساب و کتاب سے محفوظ رہتا ہے اور اسے شہید کے برابر اجر و ثواب عطا کیا جاتا ہے۔ اس مسئلے کی تفصیلات کے بارے میں اہلِ علم کے درمیان اختلاف پایا جاتا ہے، بعض علماء کے نزدیک جمعہ کی برکت کی وجہ سے اس دن عذابِ قبر اٹھا لیا جاتا ہے، جبکہ بعض دیگر علماء کی رائے یہ ہے کہ ایسا شخص آئندہ بھی عذابِ قبر سے محفوظ رہتا ہے اور اس پر عذاب دوبارہ نہیں لوٹتا۔ چنانچہ یقین کے ساتھ یہ نہیں کہا جا سکتا کہ عذابِ قبر اٹھائے جانے کے بعد وہ دوبارہ کبھی نہیں آئے گا، کیونکہ اس بارے میں صریح اور قطعی دلیل موجود نہیں، البتہ اللہ جلّ شانہٗ کی رحمت سے قوی امید ہے کہ جب کسی بندے سے عذابِ قبر اٹھا دیا جائے تو اللہ تعالیٰ اپنے فضل و کرم سے اسے دوبارہ عذاب میں مبتلا نہ فرمائے۔
*سنن الترمذي: (2/ 372، رقم الحديث :1074، ط: دارالغرب الاسلامي )* عن عبد الله بن عمرو قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «ما من مسلم يموت يوم الجمعة أو ليلة الجمعة» إلا وقاه الله فتنة القبر. *الشامية: (2/ 164، ط: دارالفكر)* وفيه تجتمع الأرواح وتزار القبور ويأمن الميت من عذاب القبر ومن مات فيه أو في ليلته أمن من عذاب القبر......(قوله ويأمن الميت من عذاب القبر إلخ) قال أهل السنة والجماعة: عذاب القبر حق وسؤال منكر ونكير وضغطة القبر حق لكن إن كان كافرا فعذابه يدوم إلى يوم القيامة ويرفع عنه يوم الجمعة وشهر رمضان فيعذب اللحم متصلا بالروح والروح متصلا بالجسم فيتألم الروح مع الجسد، وإن كان خارجا عنه، والمؤمن المطيع لا يعذب بل له ضغطة يجد هول ذلك وخوفه والعاصي يعذب ويضغط لكن ينقطع عنه العذاب يوم الجمعة وليلتها ثم لا يعود وإن مات يومها أو ليلتها يكون العذاب ساعة واحدة وضغطة القبر ثم يقطع، كذا في المعتقدات للشيخ أبي المعين النسفي.