مفتی صاحب ! ایک مسئلہ ہے ایک بندے نے ایک گاڑی بیچ دی 6 مہینے کی مدت پر اور گاڑی کی قیمت 10 لاکھ مقرر ہوگئی، اس کے بعد وہ بندہ جس نے لیا ہے وہ بیچ رہا ہے نقد پر تو کیا جس نے قسطوں پر دیا ہے، وہ واپس نقد پر لے سکتا ہے یا نہیں اور ہاں جس نے قسط پر دیا تھا اس کے علم میں تھا کہ یہ بندہ نقد پر بیچنے کیلئے لے رہا ہے، اس بندے نے بہت جگہوں پر دکھایا بھی ہے مگر وہ بندہ جس نے قسط پر دیا تھا، وہ کہہ رہا ہے کہ جو ریٹ باقی لوگوں نے دیا ہے، اس سے کم پر نہیں، بلکہ زیادہ پر لے لوں گا تو اس کا کیا حکم ہے؟ وضاحت فرمائیں۔ شکریہ
اگر کوئی شخص ایک چیز دوسرے کو ادھار بیچ دے، پھر وہی چیز اسی شخص سے نقد کم قیمت پر قیمت مکمل وصول کرنے سے پہلے واپس خرید لے تو اسے بیع عینہ کہتےہیں، جو شرعاً ناجائز ہے۔ لہذا پوچھی گئی صورت میں قسطوں پر گاڑی خرید کر اسی شخص کو نقد رقم میں کم قیمت پر واپس بیچنا جائز نہیں۔
*السنن الكبرى البيهقي:(516/5،ط:دار الكتب العلمية)* أخبرنا أبو علي الروذباري، أنا محمد بن بكر، ثنا أبو داود، ثنا جعفر بن مسافر التنيسي، ح وأخبرنا أبو سعد أحمد بن محمد الماليني، أنا أبو أحمد بن عدي، ثنا علي بن جعفر بن مسافر، ثنا أبي، ثنا حيوة بن شريح، عن إسحاق أبي عبد الرحمن أن عطاء الخراساني حدثه أن نافعا حدثه، عن ابن عمر، قال: سمعت رسول الله ﷺ، يقول: إذا تبايعتم بالعينة، وأخذتم أذناب البقر ورضيتم، بالزرع وتركتم الجهاد سلط الله عليكم ذلا لا ينزعه حتى ترجعوا إلى دينكم» *الدر المختار:(416/1،ط: دارالفكر)* (و) فسد (شراء ما باغ بنفسه أو بوكيله) من الذي اشتراه ولو حكما كوارثه (بالاقل) من قدر الثمن الاول (قبل نقد) كل (الثمن) الاول. *البناية شرح الهداية:(172/8،ط:دار الكتب العلمية)* قال: ومن اشترى جارية بألف درهم حالة أو نسيئة فقبضها ثم باعها من البائع بخمسمائة قبل أن ينقد الثمن لا يجوز البيع الثاني. *فقه البيوع:(552/1،ط:مکتبہ معارف القرآن)* وان باعه المشتري الاول السلعةالى ثالث ،ثم باعه ذلك الثالث الى الاول، فقديسمى"العينة الثلاثية"۔وهو موضع خلاف بين الفقهاء۔ فمذهب الحنفية انه ذلک جائز.