مفتی صاحب ! کیا نوحہ سننا جائز ہے؟ذرا رہنمائی فرمائیں۔
واقعہ کربلا اسلامی تاریخ کا نہایت دردناک واقعہ ہے، جس میں نواسۂ رسول صلی اللّٰہ علیہ وسلم حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور آپ کے جانثار رفقاء نے حق و صداقت کی خاطر عظیم قربانی پیش کی، اہلِ ایمان ان مقدس ہستیوں سے محبت رکھتے ہیں اور ان کی شہادت پر رنج بھی محسوس کرتے ہیں، تاہم شریعتِ مطہرہ نے غم اور سوگ کے حدود و احکام متعین فرمائے ہیں، اس لیے صدیوں بعد اس واقعہ کو بنیاد بنا کر نوحہ، ماتم اور سوگ کی ایسی صورتیں اختیار کرنا جو شریعت سے ثابت نہیں، جائز نہیں، بلکہ ہمیں چاہیے کہ ہم شہدائے کربلا کی سیرت، صبر، استقامت اور دین پر ثابت قدمی سے سبق حاصل کرے۔
*صحيح البخاري:(184/4،ط:دار طوق النجاة)* وعن سفيان عن زبيد عن إبراهيم عن مسروق عن عبد الله عن النبي ﷺ قال «ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوى الجاهلية». *سنن أبي داود: (رقم الحديث:4031)* عن ابن عمر، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم:، من تشبه بقوم فهو منهم". *فتح الباري» لابن حجر:(13/ 37 .ط المكتبةالسلفية)* وقد جاء عن ابن مسعود مرفوعا: من كثر سواد قوم فهو منهم.