معاشرت زندگی / حجاب و شرعی پردہ / محرم و نامحرم

بڑے بھائی کی بیوی کا درجہ

فتوی نمبر : 286 0000-00-00 122 مشاهدة

عضو هيئة كبار العلماء

السؤال

السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ مسئلہ یہ عرض کرنا ہے کہ جس طرح سے حدیث مبارکہ میں آتا ہے بڑا بھائی والد کے درجہ پر ہوتا اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کیلئے تو کیا بڑے بھائی کی جو بیوی ہوں گی وہ والدہ کے درجہ پر ہوسکتی ہے چھوٹوں کی پرورش وخیال رکھنے کے معاملے میں ۔۔رہنمائ فرمائیں جزاک اللّٰہ خیر ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ سوال میں ذکرکردہ حدیث ’’بڑا بھائی والد کے درجہ میں ہوتا ہے‘‘ کا مطلب یہ ہے کہ والد کے بعد گھر کے نظام،تربیت اور سرپرستی کی ذمہ داری بڑے بھائی پر آتی ہے، وہ اپنے چھوٹے بہن، بھائیوں کے لیے کفالت میں باپ کا مقام و درجہ رکھتا ہے، البتہ بڑے بھائی کی بیوی شرعا ًغیر محرم ہے، لہٰذا بالغ دیور کے لیے اس سے پردہ کرنا واجب ہے، البتہ چونکہ وہ گھر کی بڑی خاتون ہوتی ہے، اس لیے چھوٹے نابالغ دیور کی تربیت، پرورش اور دیکھ بھال وہ ماں کی طرح کر سکتی ہے، یہ عمل باعثِ اجر و ثواب ہے۔

القرآن الکریم:(النور36:24) وَقُلْ لِلْمُؤْمِنَاتِ يَغْضُضْنَ مِنْ أَبْصَارِهِنَّ وَيَحْفَظْنَ فُرُوجَهُنَّ وَلَا يُبْدِينَ زِينَتَهُنَّ إِلَّا مَا ظَهَرَ مِنْهَا ...الخ. صحیح البخاری:(37/7،رقم الحدیث:5232،ط:دارطوق النجاۃ) حدثنا قتيبة بن سعيد: حدثنا ليث، عن يزيد بن أبي حبيب، عن أبي الخير، عن عقبة بن عامر : أن رسول الله ﷺ قال: «إياكم والدخول على النساء. فقال رجل من الأنصار: يا رسول الله، أفرأيت الحمو؟ قال: الحمو الموت.» مرقاۃ المفاتیح:(2051/5،ط: دارالفكر) (قال الحمو الموت) أي دخوله كالموت مهلك يعني الفتاة منه أكثر لمساهلة الناس في ذلك وهذا على حد الأسد الموت والسلطان النار أي قربهما كالموت والنار أي فالحذر عنه كما يحذر عن الموت. بدائع الصنائع:(123/5،ط: دارالكتب العلمية) ثم إنما يحرم النظر من الأجنبية إلى سائر أعضائها سوى الوجه والكفين أو القدمين أيضا على اختلاف الروايتين إذا كانت مكشوفة .
واللہ تعالی اعلم بالصواب
دارالافتاء جامعہ دارالعلوم حنفیہ (نعمان بن ثابت)
العبادات 18 مايو 2026 1,245 مشاهدة
بڑے بھائی کی بیوی کا درجہ